پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان اختلافات بظاہر شدت اختیار کر چکے ہیں۔پی سی بی نے علی ترین کو نوٹس بھجوایا مگر علی ترین نے پی سی بی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
جمعرات کی شب ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے ایک ویڈیو بیان میں پی ایس ایل انتظامیہ پر تنقید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی جانب سے بھجوائے جانے والےاُن کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے میں چپ ہو جاؤں گا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔میں اس لیگ سے محبت کرتا ہوں قانونی نوٹس کو پھاڑ دیا۔
طنزیہ انداز میں پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے علی ترین کا کہنا تھا کہ ’آپ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنا ہی نہیں چاہتے، آپ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں اور صرف آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں۔‘
علی ترین کا اپنے ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ اُنھیں بیٹھ کر معاملات حل کرنے کے لیے پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے کبھی کوئی فون کال، ای میل یا پیغام نہیں ملا بلکہ اس کے بجائے اُنھوں نے قانونی نوٹس بھیج دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے میں چپ ہو جاؤں گا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔میں اس لیگ سے محبت کرتا ہوں۔‘
علی ترین نے کہا کہ پی ایس ایل منیجمنٹ نے انہیں ایک لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں تنقیدی بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں فرنچائز معاہدہ ختم کرنے اور مجھے بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے تاہم وہ خاموش نہیں رہیں گے۔

