محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے مختلف نمبر پلیٹوں کی نیلامی کی جبکہ آئیندہ مرحلے میں سیاسی رہنماوں کے ناموں کی نمبر پلیٹوں کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت نے گاڑیوں کے نمبروں کی نیلامی کا منصوبہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے شروع کیا تھا اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مطابق یہ ایک درست فیصلہ ثابت ہوا ہے۔
محکمے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعلیم خان نے میڈیا کو بتایا کہ ’صرف ایک نمبر پلیٹ کی نیلامی سے ایک کروڑ 11 لاکھ روپے کی رقم حاصل ہوئی۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائریکٹر جنرل عبدلعلیم خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے نام والی نمبر پلیٹیں نیلامی کے اگلے مرحلے کے لیے رکھی گئی ہیں اور اگلے مرحلے میں صرف ’عمران خان 1 ہی نہیں بلکہ زرداری 1، بھٹو 1 اور شریف 1 جیسے نام بھی فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔‘
یہ بھی پڑھئیے
حکومت کا کیش لیس نظام، دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگی لازمی قرار – urdureport.com
ان کا مزید کہنا تھا ایسے نام نیلامی کے اگلے مرحلے میں شامل کیے جائیں گے اور انھیں امید ہے کہ اس سے حکومت کو مزید آمدنی حاصل ہوگی۔
منگل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں گاڑی کے نمبروں کی نیلامی کی ایک تقریب میں محمد ہلال نامی شہری نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ خریدی ہے۔محمد ہلال کا تعلق وزیر قبیلے سے ہے اور انھوں نے وہ نمبر پلیٹ خریدی ہے جس پر ‘وزیر-1’ درج ہے۔
محمد ہلال کا تعلق وزیرستان سے ہے، جنہوں نے ’وزیر ون‘ کے لیے بولی میں حصہ لیا اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی کامیاب بولی دے کر یہ نمبر پلیٹ حاصل کی۔ محمد ہلال نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی مہنگی گاڑی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’میرے پاس پرانے ماڈل کی کرولا گاڑی ہے، جس کی قیمت 22 لاکھ روپے ہے، اور میں یہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ اسی گاڑی پر لگاؤں گا۔‘
اس نیلامی میں ’وزیر-1‘ والی نمبر پلیٹ سب سے مہنگی اور ’گنڈاپور 1‘ سب سے سستی یعنی 10 لاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔
’خان ون‘ کے لیے کئی افراد نے بولی دی، تاہم کامیاب بولی ایک کروڑ 11 لاکھ روپے رہی، جو سابق صوبائی وزیر اور وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن نیک محمد نے دی۔ انہوں نے ’خان ون‘ کے نام کی نمبر پلیٹ کامیاب بولی دے کر حاصل کرلی۔
خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، اس مرتبہ عمران خان کا نام شامل نہیں کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں اہم شخصیات کے نام بھی شامل کیے جائیں گے، جن کے لیے آن لائن بولی ہوگی اور ملک بھر سے لوگ اس میں حصہ لے سکیں گے۔


