تحریر طارق اقبال چوہدری

اگر اپ لاھور سے براستہ جی ٹی روڑ ملتان کی جانب سفر کریں تو ضلع ساہیوال جس کا پرانا نام منٹگمری تھا اس سے تقریباً 25 کلو میٹر مغرب میں اپ کو قدیم ہڑپہ ملے گا ہڑپہ ایسا شہر ہے جو کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے اور اس کے غرق ہو نے کے بارئے میں جہاں اور بہت ساری قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں وہیں مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ شہر ایک ظلم کی داستان کے نتیجے میں غرق ہوا۔
ہڑپہ کیوں غرق ہوا؟

ہڑپہ ایسا لفظ جس کا پہلا حصہ ‘ہڑ’ ہے اور چو نکہ پنجابی میں ہڑ سیلاب کو بھی کہتے ہیں اور ہڑپہ چو نکہ دریائے راوی کے ساتھ واقع ہے قدیم دور میں یہ دریا کے کنارے پر تھا اور جوں جوں آبادی نے بڑھنا شروع کیا تو یہ دریا سے دور ہوتا گیا اب یہ راوی سے دس بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور اس لیے کچھ کا خیال ہے کہ ہڑپہ دریا میں سیلاب آنے کی وجہ سے غرق ہوا۔تاہم حوالے سے اور بہت ساری قیاس آرائیاں موجود ہیں۔
ہڑپہ جو وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک اہم شہر تھا، تقریباً 1900 قبل مسیح کے بعد آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس کی تباہی کے کئی ممکنہ اسباب بتائے ہیں ایک ہی وجہ نہیں بلکہ مختلف عوامل نے مل کر اس عظیم تہذیب کا خاتمہ کیا اور ان مین ماحولیاتی تبدیلی، دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی، معیشتی زوال اور انسانی ہجرت جیسے عوامل کے نتیجے میں آہستہ آہستہ ختم ہوا۔
ہڑپہ کی تہذیب کے با رئے میں بتایا گیا ہے یہ کوئی ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح کی ہے اور اس کے غرق ہو نے کےبارے میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہاں دیہاتوں میں کہا جاتا ہے کہ ہڑپہ پر ایک ظالم بادشاہ یا رانی کی حکومت تھی جو کہ اپنی ریایا کے ساتھ ظلم کرتے اور وہ خدائی کا دعویٰ کر بیھٹے لوگوں نے ان کو بد دعائیں دینا شروع کیں اور اخر کار زمین پھٹ گئی اور دریا نے شہر کو ڈبو دیا۔کچھ کا کہنا ہے کہ اس تہذیب کے لوگ بہت امیر تھے جنہوں نے اللہ پاک کو بھلا دیا جس کی وجہ سے ان پر عذاب آگیا تاہم ان سنی سنائی کہانیوں کے کوئی واضع ثبوت موجود نہیں۔


قدیم ہڑپہ کے قبرستان میں دو تہوں میں تدفین کیوں کی جا تی؟
ہڑپہ کی تہزیب کا دل چسپ،پہلو یہ ہے کہ یہا ں سے کھدائی کے دوران جو قبریں دریا فت ہوئیں اور یہاں وزیٹرز کی سہولت کے لیے اس کو قبرستان ایچ کا نام دیا ہے یہاں ان قبروں میںمردوں کو دو تہوں میں دفن کیا جاتا تھا پہلے ان مردوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا پھر ان کی ہڈیاں ایک برتن میں جمع کی جا تیں اور اس کے ساتھ کچھ دوسرے ظروف بھی ملے ہیں جن میں مرنے والوں کے اس وقت کے ان لوگوں کے عقیدے کے مطابق زاد راہ یا خلاصی کے لیے نظرانے رکھے جاتے۔ہڑپہ کے قدیم قبرستان سے بہت سے انسانی ڈھانچے اور ہڈیا بھی ملی ہیں جن کو میو زیم میں محفوظ بنا لیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیں
YOU ARE FIRED ایک وائرل جملے نے اس کو کیسے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا ؟ – urdureport.com
یہاں پر کھدائی کے دوران ایک ٹیلہ بھی دریافت ہوا جس میں ان لوگوں کے پانی کے بندو بست کے طور پر ایک کنواں دریافت ہوا اور اس ساتھ ایک خوبصورتی سے بل کھاتی دیوار موجود ہے۔نکاسی آب کا منا سب بندوبست کیا جاتا اور کنواں کے ساتھ بڑے بڑے نجی اور عوامی کنویں بھی موجود تھے جو کہ نہا نے دھونے کے کام آتے، اس سے ان لوگوں کی رہائش اور بود و باش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔چونکہ مونجوداڑو سے بے شمار کنویں ملے ہین اور ہڑپہ سے ایسے چودہ کنویں دریافت ہو چکے ہیں۔

ہڑپہ کی دریافت کب ہوئی؟
انگریز دور سے قبل ہڑپہ کی تہذیب دریافت نہیں ہوئی تھی اور جب لاھور خانیوال ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی تو ٹھیکیداروں نے اس کو تباہ کیا اور انہو ں نے یہاں سے قدیم اینٹوں اور دیگر سامان کو نکال کر ریلوے ٹریک میں استعمال کر نا شروع کر دیا۔اس کی جو نہی یہ خبر انگریز سرکار کے کانوں میں پڑی تو چونکہ انگریز قدیم روایات کو سنبھالنے میں ماہر ہیں تو انہو ں نے اس علاقے میں ٹھیکداروں کو انٹیں اٹھانے سے روک دیا اور اس کے بعد کھدائی کا کام شروع ہوا۔
ہڑپہ میں کھدائی کا کام رائے بہادردیا رام سہانی اور مادھو سروپ واٹس نے 1921 سے1924 تک اور پھر 1934تک سر انجام دیا بعد میں ہماری حکومتوں نے اس میں کوئی خاص دل چسپی کا مطاہرہ نہیں کیا اور اس میں قدیم نوادرات ملے جن کو پہلے ہڑپہ کے کھنڈرات کے ساتھ بنا ئے گئے میو زیم میں رکھا گیا تاہم اب وہاں پر میوزیم کے ملا زمین کا کہنا ہے کہ بہت سارے قدم نوادرات اور برتن وغیرہ کو ہڑپہ سے منتقل کر دیا گیا اور یہ سب قیمتی پتھر نوادرات کہاں چلے گئے اس کا کسی کو کچھ علم نہیں۔

اس وقت کے لوگ کچی اور پکی اینٹوں سے گھر بنائے اور ایک بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ جو برتن اور مہریں اس غرق شدہ علا قے سے ملی ہیں اس پر کون سے زبان لکھی ہوئی ہے، یہا ں کچھ مہروں پر جانوروں جیسے چیتے کی تصویریں بھی موجود ہیںجس کا کیا مطلب لیا جائے یہ ماہرین ابھی واضع نہیں کر سکے کیو نکہ ابھی تک اس زبان کو ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا۔ہڑپہ میں جو سیاح آتے ہیں ان میں ملکی اور ایسے غیر ملکی بھی شامل ہیں جو کہ قدیم تاریخ سے گہرا لگاو رکھتے ہیں۔
یہ 2200قبل مسیح کی بات ہے ، اس علاقے مین ڈرین سسٹم بھی منا سب طریقے سے بنایا گیا تھا کہ جہا ں پر لوگوں کے گھر ہیں وہاں سے کچھ نا لیاں نکا لی گئیں تھیں اور وہ پھر ایک بڑی نا لی میں جا کر گر جا تی تھیں،ایسے تہذبیں ہڑپہ اور مونجوداڑو سے دریا فت ہوئی ہیں۔جو کہ پاکستان میں قدیم تہذیب کے دو مرا کز ہیں۔

ہڑپہ کے کھنڈرات میں نو گز لمبی قبر کس کی ؟
یہاں پر غرق شدہ ہڑپہ میں ایک خاص با ت یہ بھی ہے کہ یہا ں نو گز لمبی ایک قبر موجود ہے اب نو گز کا انسان کون تھا جو کہ یہاں پر دفن ہوا کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جو شخصیت اندر دفن ہیں یہ پہلے غرق شدہ ہڑپہ کا حصہ نہیں بلکہ یہ قبر بعد ازاں بنائی گئی اور جو شخصیت یہاں مدفون ہیں ان کے ساتھ ان کے علم کو بھی دفن کر دیا گیا شاید یہ کسی جنگ میں علم بردار ہوں ،بہرحال مقامی افراد ان کو ایک روحانی شخصیت مانتے ہین اور ان کا نام حضرت بابا نور شاہ ولی ہیںیہاں روایت کے مطابق لوگ نمک جو کہ یہاں مٹی کے برتنو ں میں رکھا گیا اس کو چکتے ہیں جبکہ اپ کو قبر کے اوپر ‘قلے’ جو کہ دولہا شادی پر پہنتا ہے وہ بھی پڑے ملیں گے لوگ شادیوں کے بعد یہاں پر وہ قلے چھوڑ جا تے ہیں اس کے ساتھ پتھر کے دو بڑے بڑے چھلے موجود ہیں جو کہ لوگوں کے خیال میں انہی کے ہی ہیں۔ یہا ں پر لوگ منیتں مانتے ہیں چڑھاوے چڑھاتے ہیں ،ان بزرگ کا ہر سال عرس بھی منایا جاتا ہے۔

نو گز لمبی قبر کے ساتھ جڑی مسجد کی کہا نی
بابا نور ولی شاہ کے دربار کے ساتھ ایک مسجد بھی دریافت ہوئی جس کے بارئے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس مسجد کو مغلیہ دور میں تعمیر کیا گیا سولہویں اور سترویں صدر میں یہ مسجد بنائی گئی اور عین ممکن ہے کہ اس وقت کسی نے اس لمبی قبر کے ساتھ مسجد بنوائی ہو ۔اس مسجد کی خاص بات کہ چھت کی کوئی نشاندہی نہِں ہو سکی۔
قدیم انسان نے اپنے غلے کو سٹور کر نے کے لیے ایک گودام بنایا ہوا ہے اور یہاں پر اس میں تہہ خانہ بھی ملا ہے یہا ں پر اس عمارت کو اس وقت کی سب سے بڑی عمارت قرار دیا گیا ہے اور یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے بادشاہ ،امیر یا کسی نواب شخص کی کا گھر ہو گا ،اور اس کے ساتھ چودہ گھروں اک ایک سلسلہ ملا ہے جو کہ ایک دوسرےسے جڑے ہوے ہیں اور ان کو ایک مربوط طریقے سے بنایا گیا ہے اور بڑے گھر کے ساتھ اس وقت کے امراء کے گھر ملے ہیں۔
یہاں پر فیملیز بھی سیر کو آتی ہیں اور بچوں کے لیے دلچسپی کی جات ہے کہ وہ یہ دیھکنے آتے ہیں کہ قدیم دور کے لوگ کیسے رہتے تھے کیا کھاتے تھے خواتین بناو سنگھار کے لیے کونسے زیوارت پہنتی تھیں کیو نکہ یہا ں سے کھدائی کے دوران خواتین کے مختلف دھاتوں موتیوں سے بنے زیوارات بھی ملے ہیں جو کہ خواتین بننے سنورنے کے لیے اس کا استعمال کر تیں ۔

قدیم ہڑپہ کی سیر کے دوران اگر اپ نظر دوڑایں تو ساتھ ہی جدید آبادیا ں موجود ہیں جس کو بھی ہڑپہ بھی کہتے ہیں اور حکومت نے قدیم ہڑپہ کو محفوظ بنا نے کے لیے مختلف اقدامات اٹھا رکھے ہیں تا کہ تاریخ کو نقصان نہ پہنچ سکے۔
ہڑپہ کے کھنڈرات کے ساتھ ایک میوزیم بھی بنایا گیا جس میں مختلف قسم کی مورتیاں عورتوں کے میک اپ کا سامان،بڑے بڑے مشکیزے،انسانی ہڈیا اور ڈھانچےموجود ہینںاور ایک مورتی کو یہا ں سجھا کر رکھا گیا ہے تا کہ یہاں وزٹ کے لیے آنے والے لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ آج کے دور جدید کی طرح قدیمی دور میں خواتین کس طرح آرائش و زیبائش کا اہتمام کرتیں۔ہڑپہ کی تہذیب کو دیکھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ آج سے پہلے کا انسان کس طرح اپنی زندگی گزاراتا تھا۔

