کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ برس لاہور میں قتل ہونے والے امیر بالاج ٹیپو قتل کیس ملوث ملزم خواجہ تعریف بٹ عرف طیفی مبینہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ملزم کو بذریعہ سڑک کراچی سے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ جمعے کو علی الصبح رحیم یار خان کے قریب سی سی ڈی کی گاڑی پر طیفی بٹ کے مسلح ساتھیوں نے حملہ کر دیا۔
چند روز قبل طیفی بٹ کو دبئی میں انٹر پول کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اُنھیں جمعے کو کراچی پہنچایا گیا تھا۔
جمعے کو دبئی سے کراچی لایا گیا تھا جس کے بعد کراچی اِیئر پورٹ حکام نے انھیں سی سی ڈی کی تحویل میں دے دیا تھا۔ فائرنگ کے تبادلے میں اس کا ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیا جسے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مسلح افراد طیفی بٹ کو سی سی ڈی کی حراست سے چھڑا کر لے گئے۔صبح پانچ بجے دو مشتبہ گاڑیوں کو روکا گیا اور اس دوران پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا حو 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا۔فائرنگ کے بعد جب سی سی ڈی پولیس گاڑیوں کے قریب پہنچی تو طیفی بٹ شدید زخمی حالت میں موجود تھے، انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
یہ بھِ پڑھیں،
ٹی ایل پی ریلی لاھور میں،جڑواں شہر بند،سعد رضوی کی اہلیہ بیٹوں کی حراست کی اطلاعات – urdureport.com
واضع رہے کہ طیفی بٹ کو لاہور کا بڑا انڈر ورلڈ ڈان سمجھا جاتا تھا اور وہ اثر رسوخ والے تھے اور ان کے کزن گوگی بٹ کی لاہور کے ٹرکاں والا خاندان کے ساتھ دیرینہ دُشمنی تھی۔
گذشتہ برس فروری میں ٹرکاں والا خاندان کے امیر بالاج ٹیپو کو شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل میں طیفی بٹ کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ مفرور تھے۔

