لاھور میں بیوی اور بیٹی کے قتل میں ڈی ایس پی کے ملوث ہو نے کا سراغ لگانا یقیناً ایک مشقت طلب کام تھا تاہم پولیس نے اس مشکل کام کو کر دکھایا لیکن آخر ڈی ایس پی کا سراغ کیسے ملا یہ ایک کہانی ہے ؟
18 اکتوبر 2025 کو سرکل تھانہ انویسٹیگیشن کے ڈی ایس پی عثمان حیدر نے اپنی مدعیت میں تھانہ برکی میں ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی اہلیہ اور بیٹی 27 ستمبر 2025 سے لاپتا ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق عثمان حیدر نے پولیس کو بتایا کہ 27 ستمبر کی رات جب وہ اپنے گھر پہنچے تو وہاں تالہ لگا تھا اور یہ کہ انھوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو ہر جگہ تلاش کیا اور اپنی سسرال سے بھی رابطہ کیا تاہم وہ انھیں ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔
پولیس کےذہن میں یہ سوال آیا کہ دونوں خواتین 27 ستمبر کو لاپتا ہوئی تھیں تو اُن کی گمشدگی کی رپورٹ 18 اکتوبر کو کیوں درج کروائی گئی اور اتنی تا خیر سے کیوں کام لیا گیا ۔
بی بی سی کے مطابق تفتیشی ماڈل ٹاؤن کے ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ خواتین کی 27 ستمبر کو گمشدگی کے واقعے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ملزم نے اُچ شریف میں اپنی سسرال سے رابطہ کیا اور انھیں اپنی اہلیہ سمیعہ اور بیٹی خنسا کی گمشدگی کے بارے میں مطلع کیا۔
سمیعہ کی بہن تہمینہ کی جانب سے سات اکتوبر کو ایک درخواست دی گئی اور انھوں نے آٹھ اکتوبر کو اپنی بہن اور بھانجی کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دے دی۔

پولیس کے مطابق تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر، اُن کی اہلیہ اور بیٹی کے زیرِ استعمال چھ نمبر تھے جن کا تجزیہ کیا گیا، اُن کی سی ڈی آر لی گئی تفیش میں ایک نیا موڑ آیا کہ کہ ڈی ایس پی نے ایف آئی آر میں جو وقوعہ بیان کیا تھا وہ 27 ستمبر کی بات تھی مگر جب ہم نے سی ڈی آر تجزیہ کیا تو 25 ستمبر رات ساڑھے دس بجے سے لے کر صبح کے تین بجے تک، ڈی ایس پی عثمان حیدر کا موبائل فون پانچ گھنٹے کے لیے بند پایا گیا۔‘پولیس کو شک ہو ہوا کہ ایک ڈی ایس پی کا موبائل اتنی دیر کیو ں بند رہا۔
’جس کے بعد فارینزک ٹیم نے ڈی ایس پی کے اُس گھر کا مکمل معائنہ کروایا جہاں پر وہ دونوں ماں بیٹی رہتی تھی،واش روم سے، بیسن سے اور بیڈ سے خون کے دھبے ملے ،پھر ڈی ایس پی کی گاڑی کا فارینزک کیا گیا۔‘
گاڑی کی اگلی اور پچھلی نشست کا کور پھاڑا اور اندر کے فوم کا معائنہ کیا، وہ خون سے تر تھا۔ یہ ڈی ایس پی کی اپنی سرکاری گاڑی تھی۔‘گاڑی کی سیٹوں سے ملنے والے خون کا ڈی این اے سمیعہ اور خنسا کے ساتھ میچ کر گیا۔اسی وقت ملزم نے حفاظتی ضمانت کروا لی اور تفتیش میں شامل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئیے
بونڈی بیچ فائرنگ ملزم نوید اکرم پر59 جرائم کے الزامات عاید – urdureport.com
پولیس کے مطابق ان ثبوتوں کے حصول کے بعد ملزم ڈی ایس پی عثمان حیدر سے تفتیش کا سلسلہ شروع ہوا اور انھیں کہا گیا کہ اب ان کے پاس خود کو قانون کے حوالے کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔پھر ملزم پولیس کو کالا شاہ کاکو ،فیروز والا تھانہ بھرت سٹاپپر ملزم پولیس کو لے گیا

تھانہ فیروزوالا میں پانچ اکتوبر 2025 کے روزنامچے میں نامعلوم مسخ شدہ لاش کی انٹری تھی۔ پولیس نے اس نامعلوم لاش کی تصویریں بھی لی تھیں، وہ بھی ہم نے اُن سے لے لیں۔ لاش بالکل ڈھانچہ تھی۔ اس کے بعد ان کی قبر پر گئےلاش کی عمر اور ہیت کا تعین کیا گیا تو وہ سمعیہ کی لاش تھی۔
جس کے بعد پولیس قصّر کی جانب گئی ملزم نے بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کی لاش نالے میں پھینکی تھی،تو ایس ایچ او کاہنہ نے بتایا کہ 27 ستمبر کی رپٹ میں بیس سے پچس سال کی عمر کی ایک لاش ملی تھی،لیکن وہ بھی خراب حالت میں تھی،
ملزم نے دونوں لاشوں کو الگ الگ جگہ پر پھینکا تاکہ اس کے جرم کو بے نقاب نہ کیا جا سکے لیکن پو لیس نے مہارت سے اس کا پتہ چلا لیا۔ ملزم چو نکہ خود ایک پولیس افسر تھا اس نے اپنے طور پر جرم کو چھپانے کے لیے بہترین چال چلی تاہم وہ اب گرفت میں اچکا تھا۔
ملزم عثمان حیدر اپنی سرکاری گاڑی پر اپنی اہلیہ اور بیٹی کو نجی ہوٹل میں کھانا کھلانے لے گئے اور واپسی کے راستے میں ایئرپورٹ کے قریب واقع رنگ روڈ پر انھوں نے سرکاری گاڑی میں فائرنگ کر کے دونوں کو قتل کر دیا۔
یہ کہا گیا کہ ملزم نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر یہ اقدام اٹھایا اور اس کے بعد اپنی اہلیہ کی لاش کو کالا شاہ کاکو کے قریب کھائی میں پھینک دیا جبکہ بیٹی کی لاش کو کاہنہ کے علاقہ میں گندے نالے میں پھینک دیا۔
لاہور پولیس کے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر کو نوکری سے معطل کر دیا گیا ہے اور قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

