• Home  
  • لڑكیوں كی كینسر ویكسین كتنے ممالك میں استعمال ہو رہی ہے،سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ كیوں ؟
- خاص رپورٹ

لڑكیوں كی كینسر ویكسین كتنے ممالك میں استعمال ہو رہی ہے،سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ كیوں ؟

سینیر صحافی مہتاب بشیر كی بلاگ پوسٹاسلام آباد https://mahtabbashir.blogspot.com/2025/09/how-myths-undermine-pakistans-fight.html پاکستان میں 9 سے 14 سال کی 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچیوں کو ہیومن پیپیلوما وائرس ملك گیر مہم 15 سے 27 ستمبر تک جاری ہے، جو عوامی صحت کے میدان میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس عزم کے […]

hpv vaccine.cancer vaccine,kinsr wolsn

سینیر صحافی مہتاب بشیر كی بلاگ پوسٹ
اسلام آباد

https://mahtabbashir.blogspot.com/2025/09/how-myths-undermine-pakistans-fight.html

پاکستان میں 9 سے 14 سال کی 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچیوں کو ہیومن پیپیلوما وائرس ملك گیر مہم 15 سے 27 ستمبر تک جاری ہے، جو عوامی صحت کے میدان میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس عزم کے ساتھ سب سے بڑی رکاوٹ عوامی بداعتمادی، سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور آگاہی کی کمی ہے۔ یہ چیلنج اس اہم مہم کی کامیابی کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے۔

ابتدا ہی سے سوشل میڈیا افواہوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ خدشات گردش کر رہے ہیں کہ ویکسین بانجھ پن کا سبب بن سکتی ہے، اس کے حلال ہونے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور سازشی نظریات کو ہوا دی جا رہی ہے، جس سے یہ جان بچانے والی مہم متاثر ہو رہی ہے۔

خاموش خطرہ

سروائیکل کینسر رحمِ مادر اور اندام نہانی کو ملانے والے حصے (سروکس) میں لاحق ہونے والی مہلک بیماری ہے جو اکثر ابتدائی مراحل میں ظاہر نہیں ہوتی۔ جب علامات ظاہر ہوں تو وہ عام تکالیف جیسے بے قاعدہ خون آنا، غیر معمولی اخراج، پیڑو میں درد یا پیشاب کی تکالیف سے مشابہ ہوتی ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں شرحِ آگاہی نہایت کم ہے۔

ویکسین کی ضرورت

چینی ساختہ ویکسین "سیسولن” (Cecolin) جو 2006 میں متعارف ہوئی، ایچ پی وی کی دو اقسام (16 اور 18) سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جو تقریباً 70 فیصد کیسز کا سبب بنتی ہیں۔ یہ ویکسین پہلے ہی 150 سے زائد ممالک میں استعمال ہو رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے اسے 2030 تک سروائیکل کینسر کے خاتمے کی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔

پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں اور بقا کی شرح محض 36 فیصد ہے۔ پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں یہ مہم جاری ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 2026 اور بلوچستان و گلگت بلتستان میں 2027 میں شروع کی جائے گی۔

ابتدائی مشکلات اور ہچکچاہٹ

اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رشیدہ بتول نے بتایا کہ وہاں 9 سے 14 سال کی تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار بچیوں کو ویکسین دینے کا ہدف ہے۔ تاہم مہم کے تیسرے دن ہی ویکسین کے انکار کے واقعات سامنے آنے لگے۔ ابتدا میں والدین، اساتذہ اور طلبہ نے مثبت ردعمل دیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ نے ہچکچاہٹ کو بڑھا دیا۔

ڈاکٹر رشیدہ نے وضاحت کی کہ یہ ویکسین نئی نہیں ہے، بلکہ 2006 سے دنیا بھر میں محفوظ اور مؤثر طریقے سے استعمال ہو رہی ہے۔ "ہمارا ہدف ہے کہ اس ویکسین کو پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں شامل کیا جائے۔”

وزیر صحت کی مثال

سروائیکل کینسر ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو ویکسین لگوا کر قومی مثال قائم کی۔ کراچی میں آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ویکسین کو متعارف کرانے والا دنیا کا 191واں ملک ہے، اور یہ اقدام کئی اسلامی ممالک پہلے ہی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کسی بچے کی زندگی کو بے بنیاد خدشات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔”

والدین اور اسکولوں کا کردار

پرائیویٹ اسکولز نیٹ ورک کے ڈاکٹر محمد افضل بابر نے کہا کہ والدین خوفزدہ اور کنفیوژ ہیں۔ "بغیر مناسب آگاہی کے اعتماد قائم نہیں کیا جا سکتا۔”

اعداد و شمار اور آگاہی کی کمی

غیر سرکاری تنظیم جھپیگو (Jhpiego) کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 19 فیصد سرپرستوں نے کبھی سروائیکل کینسر کا نام سنا ہے، 5 فیصد کو ایچ پی وی کا پتا ہے، اور صرف 2 فیصد ویکسین سے آگاہ ہیں۔

آگے کا راستہ

مہم کے بعد حکومت کا منصوبہ ہے کہ ایچ پی وی ویکسین کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں شامل کیا جائے تاکہ طویل المدتی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کے لیے عالمی ادارہ "گاوی” بھی تعاون کر رہا ہے۔

اجتماعی اپیل

وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا:
"اگر ہم سب، والدین، اساتذہ، طبی عملہ اور مذہبی رہنما متحد ہو جائیں تو ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں کوئی بچی اس قابلِ تدارک مرض کا شکار نہ ہو۔”

اب پیغام واضح ہے: حقائق کو خوف پر غالب آنا ہوگا، اور اعتماد کو اینٹ اینٹ رکھ کر تعمیر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کی بیٹیوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں