• Home  
  • محمد رضوان کے کئیریر پر کیوں فل سٹاپ لگایا جا رہا ہے روشن خیال حلقے کیا چا ہتے ہیں۔
- کھیل

محمد رضوان کے کئیریر پر کیوں فل سٹاپ لگایا جا رہا ہے روشن خیال حلقے کیا چا ہتے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان کا حالیہ تنا زعات کے بعد انٹرنیشنل کیرئیر دائو پر لگ گیا ہے۔محمد رضوان کے ساتھی بابر رضوان جن کی حال ہی میں ٹیم میں واپسی ہوئی ہے وہ ان کے قریبی حامی سمجھے جاتے تھے لیکن محمد رضوان جو کہ ارباب […]

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان کا حالیہ تنا زعات کے بعد انٹرنیشنل کیرئیر دائو پر لگ گیا ہے۔محمد رضوان کے ساتھی بابر رضوان جن کی حال ہی میں ٹیم میں واپسی ہوئی ہے وہ ان کے قریبی حامی سمجھے جاتے تھے لیکن محمد رضوان جو کہ ارباب اختیار کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں اسی وجہ سے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ سے محرومی اور تینوں فارمیٹ سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پی سی بی چیف محسن نقوی نے محمد رضوان کو نہ صرف ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے باہر کیا بلکہ ان سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی بھی چھین لی اور ساتھ ساتھ سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی بھی کردی اب بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان نے اگر اپنا رویہ درست نہ کیا اور پی سی بی کے آگے نہ جھکے تو انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز سے بھی ڈراپ کر دیا اجئے گا اور ان کے بین الاقوامی کیریئر پر فل اسٹاپ لگا دیا جائے گا۔

محمد رضوان نے ابھی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے بی کیٹگری کے معاہدے پر دستخط نہ کیے اور باغی کہلائے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے کہ انہیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے کیوں باہر نکالا گیا اور ون ڈے قیادت کیوں چھینی گئی۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی مایہ ناز کھلاڑی جو کہ ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے ان کے کئیریر کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان تنزلی کی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں اشاروں سے پہلے ہی بتا چکے ہیں، محمد رضوان کا ڈریسنگ روم میں اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ وہ ملکی اور غیر ملکی سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو پانچ وقت نماز کا پابند بنانے کیلئے باجماعت نماز کی امامت کرتے تھے اور اس کے بعد دس سے پندرہ منٹ پر مشتمل حدیث کا سیشن بھی کرتے تھے۔

محمد رضوان نے کھلاڑیوں کے درمیان ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنا رکھا تھا۔ یہ عمل پی سی بی میں موجود روشن خیال افسران کو بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ تاہم تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب گزشتہ پی ایس ایل سیزن میں محمد رضوان نے ڈریسنگ روم میں جوا سازکمپنیوں کے پروموٹرز کی موجودگی پر اعتراض کیا اور اہم شخصیت ست جوا ساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کی اور ساتھ ہی صہیونی نواز اسپانسرڈ کمپنیوں کی موجودگی پر بھی آواز اٹھائی۔ اور فیلسطیینوں کی امداد کا بھی اعلان کیا۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور بابر اعظم کی خراب پرفارمنس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بدلہ لینے کا موقع مل گیا اور دونوں کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024ء میں سست بیٹنگ اوسط پر ٹیم سے باہر کردیا گیا۔

دونوں کھلاڑیوں پر الزام تھا کہ وہ پاور پلے سے زیادہ ڈاٹ بالز کھیل رہے تھے جبکہ دونوں بلے باز ایونٹ کے ٹاپ ٹین بہترین رنز اسکورر میں شامل تھے۔ ورلڈ کپ میں ناکامی کا بھی انہیں ذمہ دار ٹہرایا جا رہا تھا جبکہ حالیہ رولڈکپ میں بدترین کارکردگی دکھانے والے دیگر کھلاڑی اب بھی ٹیم میں براجمان ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں