سعودی عرب کی حکومت نے مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی ﷺ کی حدود میں کسی بھی طرح کی ویڈیوز بنانے اور تصاویر کھینچنے پر پابندی عائد کردی اور اس بارے سفارت خانوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ان مقدس مقامات پر ہر طرح کی ویڈیوز بنانے اور تصاویر کھینچنے پر پابندی عائد ہوگی، چاہے وہ کسی نیک مقصد کے لیے ہی کیوں نہ بنائی جا رہی ہوں۔
سعودی حکومت کی جانب سے یہ نیا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا جب کہ گزشتہ ہفتے ہی روسی نژاد اسرائیلی شہری کی جانب سے مسجد نبوی ﷺ میں لی گئی سیلفی پر تنازع شروع ہوا۔
مقامی رساں ادارے کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے اس نئے فیصلے سے متعلق ملک میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں کو بھی آگاہ کردیا گیا۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ملک میں موجود تمام سفارتخانوں کو خطوط لکھ کر نئے فیصلہ سے آگاہ کردیا۔
سعودی حکام کے مطابق یہ فیصلہ مذہبی رسومات کی ادائگی کے لیے مقدس مقامات کی حفاظت اور وہاں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کی پیش نظر کیا گیا۔ساتھ ہی سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات پر ایسی سرگرمیوں کے باعث عبادت کے لیے آنے والے زائرین کو مشکلات بھی درپیش ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں غیر مسلم افراد کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔دوسری جانب حالیہ برسوں میں اسمارٹ فونز کے زیادہ استعمال کے باعث سیکڑوں مسلمانوں کی جانب سے حج کے موقع پر بھی مقدس مقامات کی تصاویر کھینچنا عام ہوگیا تھا۔
زائرین کی جانب سے مقدس مقامات کی ویڈیوز بھی بنائے جانے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

