پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ن لیگ تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی، آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں ہوگی۔
ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں نے میڈیا سے بات چیت کی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن گئی، مسلم لیگ ن کا فیصلہ ہے کہ یہ آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔
اس موقع پر ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کا موجودہ سیٹ اپ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور عوام کی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے وفد نے ایوان صدر میں صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات کی، وفد میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور دیگر رہنما شامل تھے
مظفر آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر اعظم انوارالحق نے آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت نے نمبر گیم پوری کرلی ہے، تووہ عدم اعتماد کیوں نہیں لاتی؟
آزادکشمیر اسمبلی اراکین کی تعداد 53 ہے جن کا 25 فیصد 14 اراکین بنتے ہیں جس کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی ۔
محترک کو وزیر اعظم کے امیدوار کا نام لازمی تحریک عدم اعتماد میں شامل کرنا ہوگا۔ تحریک عدم اعتماد کے تین دن بعد اور سات دن قبل رائے شماری ہونا لازمی ہے۔
تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کی صورت میں چھ ماہ تک دوبارہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکتی۔ تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد وزیر اعظم اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتا۔

