تحریر طارق اقبال چوہدری

لاھور شہر کی ‘ہیرا منڈی’ جس میں آج شام ڈھلتے ہی خاموشی اور تنہایاں انگڑائی لینا شروع کر دیتی ہیں۔کبھی اسے بادشاہوں اور شہنشاہو ں کے فن موسیقی ادب اور تہذیب سے لگاو کا شاہی محلہ سمجھا گیا اور کبھی اسے طوائفوں کےمحلے یا ہیرا منڈی کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ۔
شاہی محلہ یا ہیرا منڈی
یہ شہر کا ایک قدیم اور تاریخی علاقہ تھا جو بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کے قریب اندرون شہر میں واقع ہے جہاں سورج کے ڈھلتے ہیں موسیقی کے استاد ہلکی ہلکی دھن پر فضاوں میں اپنے سر بکھیرنا شروع کر دیتے تھے زمانے کی ستم ظریفی دیھکیے اس کو کبھی ہیرا منڈی کبھی طوائفوں کا محلہ، کبھی شاہی محلہ اور کبھی ریڈ لائٹ ایریا کے طور پر یاد کیا گیا۔

آج بھی سیاح جب لاھور کا رخ کر تے ہیں تو لاہور کے ان گلی کوچوں میں ماضی کے عروج و زوال کی کہانیاں محسوس کرتے ہیں، جو شہرِ لاہور کی قدیم شان و شوکت اور تہذیبی روح کی جھلک پیش کرتی ہے، جو کبھی شہنشاہوں اور بادشاہوں کے درباروں میں پنپ رہی ہو تی تھیں۔مورخین کا خیال ہے کہ اس کی تاریخ 450سال پرانی ہے جن یہ علا قہفن کا گہوارہ تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ فن معدوم ہوتا گیا اور جسم فروشی نے اس کی جگہ لے لی ۔
ہیرا منڈی کا زوال
مغلوں کے زوال کے بعد اس ہیرا منڈی پر بھی زوال شروع ہوا جبکہ صدیوں سے یہ علاقہ اپنی تاریخ، فنِ موسیقی، رقص اور تہذیبی ورثے کے باعث مشہور تھا۔اس وقت دربار کے قریب مخصوص علاقے میں کنیزیں، رقاصائیں اور موسیقی کے ماہرین رہائش پذیر تھے، جو درباروں میں فنِ رقص و موسیقی پیش کرتی تھیں۔ جنہوں نے شہنشاہوں اور بادشاہوں کے حضور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا ۔
مغلیہ دور میں یہاں کی رقاصائیں درباری فنکار کہلاتی تھیں۔ اکبر کے دور میں ممتاز محل بانو مشہور، جہانگیر کے زمانے میں جلالی بائی نے شہرت پائی، جبکہ شاہجہان کے عہد میں زہرہ جان اور بعد میں چمن آرا بیگم نے لاہور میں اس فن کوزندہ رکھا۔

شاہی محلے کی فنکارائیں
پاکستان بننے کی بعد کی کہانی کچھ یوں رہی نور جہاں نے اسی علاقے میں بچپن گزارا،فردوس بیگم ،ناہید اختر نرگس،دیبا نشو رانی کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح اس علاقہ سے جڑا رہا۔روبی جان اور ممتاز بائی ہیرا منڈی کی آخری نسل کی نمائندہ فنکارائیں تھیں جنہوں نے رقص اور کلاسیکل موسیقی کے ذریعے اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
سکھ دور میں شاہی محلہ “ہیرا منڈی” بن گیا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں پنکو بائی ، برطانوی دور میں بیگم جان المعروف چاندی بائی نے مشاعرے اور محافل سجائیں۔ اسی زمانے میں گوہر جان اور مغل جان جیسی فنکاراؤں نے لاہور کے فن کو نئی پہچان دی۔ آج وہ رنگ موجود نہیں تاہم لاحور آرٹس کونسل میں اس فن کو زندہ رکھنے کی کبھی کبھی مشق ضرور کی جاتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ علاقہ فلمی دنیا سے جُڑ گیا۔ ممتاز بائی، نذرہ بائی اور روبی جان جیسی رقاصائیں تھیٹر اور فلموں میں آئیں۔ ان کے رقص نے کلاسیکی انداز کو عوامی رنگ دیا۔
کوٹھا کیو ں مشہور ہو گیا
مغل دور میں ان علاقوں میں ریاست سے تعلق رکھنے والے امیر لوگ اور ان کے خاندان رہتے تھے۔انھوں نے کہا کہ خوشی کے موقعوں پر ان کے پروگرام شاہی محلّات میں ہوتے تھے۔وہ بتاتے ہیں ’آج کل لفظ کوٹھا کی جس طرح تشریح کی جاتی ہے وہ درست نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب کوٹھا آرٹ کا مرکز تھا جہاں صرف گانا، موسیقی اور رقص ہوتا تھا، انگریز دور میں جب کوٹھوں کے لیے لائسنس جاری ہونے لگے تو لاگوں نے یہا ں کا رخ کرنا بند کر دیا کیو نکہ پولیس بلاوجہ چھا پے مار رہی تھی۔

مغلیہ دور میں یہاں طوائفیں، فنکارائیں اور موسیقی کے استاد آباد تھے جو نہ صرف ناچ گانے میں مہارت رکھتیےتھیں بلکہ یہاں شاعری، ادب، آدابِ گفتگو اور موسیقی کی تربیت بھی دی جاتی۔ اُس وقت کے نوابوں اور امراء کے لیے یہ علاقہ ایک ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔مغل دور میں ہیرا منڈی رقص اور موسیقی کے لیے مشہور تھا۔ یہ شہر کے طوائف ثقافت کا مرکز تھا۔ لوگ بصری تفریح اور موسیقی کے لیے یہاں جاتے تھے۔
شاہی محل کے راستے
مغلیہ دور میں شاہی محلہ (ہیرا منڈی) دراصل شاہی قلعے کے مشرقی حصے کے قریب واقع تھا۔قلعے سے اس علاقے کو جوڑنے کے لیے ایک خفیہ مگر معروف راستہ تھا، جسے عام طور پر “مستان دروازہ” یا “حکیمان گیٹ” کہا جاتا تھا۔یہ دروازہ آج کے حکیمان بازار اور شاہی حمام کے قریب واقع تھا۔ جہا ں سے موسیقار اور رقاصاسائیں قلعے میں داخل ہوتیں اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کر تیں۔

شاہی محلہ ہیرا منڈی کیسے بنا
مغل بادشاہوں کے زمانے (خصوصاً اکبر، جہانگیر اور شاہجہان کے دور) میں لاہور ایک ثقافتی و فنکارانہ مرکز تھا اور اُس وقت “شیخُوپوریاں” یا “طواِیفوں کا محلہ” بھی کہا جاتا تھا۔ بعد میں سِکھ دورِ حکومت میں جب جنرل ہیرا سنگھ ڈوگرہ نے یہاں انتظام سنبھالا اور طوائفوں کو یہ جگہ مخصوص کر دی، تو یہ علاقہ ہیرا منڈی کے نام سے مشہور ہوگیا
روایات کے مطابق، لاہور میں جو علاقہ آج ہیرا منڈی کہلاتا ہے، اس کا نام ہیرا سنگھ کے نام پر رکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس جگہ کو طوائفوں اور موسیقاروں کے لیے مخصوص کیا تاکہ دربار کے لیے رقص و سرور کی محفلیں سجائی جا سکیں

تاہم ایک اور روایت کے مطابق طوائفوں کی خوبصورتی اور چمک دمک کی بنا پر بھی اس کا نام ہیرا منڈی پڑا تاہم اس بات پر اتفاق نظر آتا ہے کہ گرچہ یہ علا قہ مغلیہ دور حکومت میں موجود تھا مگر اس کا نام ہیرا منڈی جنرل ہیرا سنگھ کے نام کی مناسبت سے ہی پڑا۔
رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ہیرا سنگھ نے 1843ء میں لاھور کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ تاہم دربار میں اختلافات بڑھ گئے اور 1844میں خالصہ فوج نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور اس بغاوت کے نتیجے میں وہ مارے گئے۔
پنجاب کا ثقافتی مرکز اور کھانوں کے اڈے
آزادی کے بعداس پر زوال آگیا اور آج حکومتِ پنجاب نے اس علاقے کو ایک ثقافتی اور سیا حتی مرکز کی طرز پر بحالی کے اقدامات اٹھانا شروع کیے ہیں ۔ اب یہ علاقہ اپنی فُوڈ اسٹریٹ، قدیم عمارتوں، مغلیہ طرزِ تعمیر اور ثقافتی رونقوں کی وجہ سے مشہور ہے۔غیر منقسم ہندوستان اور پاکستانی فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے کئی اداکاروں کی جڑیں ہیرا منڈی میں ہیں۔انڈیا اور پاکستان کی تقسیم کے بعد یہاں سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد انڈیا آئے اور یہاں فلمی صنعت اور دوسرے پیشوں سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزارنے لگے۔

گرچہ آج پنجاب حکومت نے یہا ں پر فوڈ اسٹریٹ قائم کر دی ہے تا ہم مغلیہ دور حکومت میں بھی یہا ں کے کھابے اور پکوان اپنی مثال اپ تھے جن میں نہاری پائے چنے نان کریم چپاتی اور قیمہ،تندوری نان یخنی پلاو بریانی مشروبات اور میھٹے پکوان اپنی مثال اپ تھے۔یہاں زندہ موسیقی اور مجرے ہوتے، اس لیے کھانے کا وقت اکثر رات دیر تک ہوتا تھا۔اکثر فنکار، شاعر، موسیقار، اور اشرافیہ یہاں آ کر ان پکوانوں کے ساتھ ثقافتی محفلیں سجاتے تھے
مغلیہ دور میں ان کھانے کھابوں کو ہوٹلوں کی بجائے کارواں سرائے، یا خوان پوش (کھانے کے اڈے) کہا جاتا تھا ۔ جن میں سرائے وزیر خان ،شاہی قلعہ کے قریب سرائے چتلی قطب،سرائےِ چوک ناولکھا شامل تھے۔اور آج بھی یہاں پر شہری ان کھانوں کے اڈوں پر جمع ہو کر لطف دوبالا کرتے ہیں۔

