جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں ازسر نو عام انتخابات کا مطالبہ کردیا 2018 اور 2024 کے دونوں انتخابات شفاف نہیں تھے۔
کراچی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مشترکہ نصاب تعلیم کے حوالے سے حکومت سے بات ہو سکتی ہے، لیکن مدارس کو ختم کرنا قابل قبول نہیں، کیوں کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات کا حصہ ہے، سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف ہم سب ایک پیج پر ہیں، افغانستان میں اشرف غنی تک کبھی پاکستان دوست حکومت نہیں رہی، ہمیں اپنی پالیسیوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرتے ہوئے آئین کی بالادستی کی طرف جانا چاہیے، جہاں پارلیمنٹ سپریم ہو، اور عوام کے ووٹ کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئیے
توشہ خانہ ٹو کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا – urdureport.com
انہوں نے کہاکہ دفاعی لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہے اسے برقرار رکھنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ 27ویں ترمیم میں جو تبدیلیاں کی گئیں، وہ آئین، قانون اور اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں۔ یہ تبدیلیاں اقوام متحدہ کے کہنے پر کی گئیں جو حکومت کی ناکامی ہے۔
انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے پالیسی بنائی جائے نہ کہ دھکیل دیا جائے۔

