• Home  
  • میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں, زنجیروں میں قید وینزویلا صدر مادورو
- دنیا

میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں, زنجیروں میں قید وینزویلا صدر مادورو

وینزویلا کے امریکہ میں گرفتار صدر مادورو نے کہا ہے کہ میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں، جسے اس کے گھر سے پکڑا گیا۔ بی بی سی اردو کی میڈلین ہالپرٹ، نیویارک کی عدالت سے رپورٹ کے مطابق وینز ویلا کے معذول صدر مادورو اور ان کی بیوی کی پیشی آج ڈرامائی لمحات […]

وینزویلا کے امریکہ میں گرفتار صدر مادورو نے کہا ہے کہ میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں، جسے اس کے گھر سے پکڑا گیا۔

بی بی سی اردو کی میڈلین ہالپرٹ، نیویارک کی عدالت سے رپورٹ کے مطابق وینز ویلا کے معذول صدر مادورو اور ان کی بیوی کی پیشی آج ڈرامائی لمحات کے ساتھ شروع اور ختم ہوئی۔

مادورو کی ٹانگوں کی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے سنائی دی، جہاں انھوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود کئی لوگوں کو ’بونوس دیاس‘ کہا۔

عدالت میں عوام میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخ کر کہا کہ وہ اپنے کیے کی سزا ’بھگتیں گے۔‘مادورو نے ان کی طرف رخ کیا اور ہسپانوی میں جواب دیا کہ وہ ’اغوا شدہ صدر‘ اور ’جنگی قیدی‘ ہیں۔

اس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کے پیچھے زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے راستے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔

یہ واحد لمحہ نہیں تھا جب 40 منٹ کی سماعت کے دوران مادورو نے، جو ایک نیلا اور ایک روشن نارنجی شرٹ پہنے ہوئے تھے، اپنی بے گناہی کا اظہار کیا۔

جج نے ان سے درخواست کی کہ سماعت کے آغاز میں تصدیق کریں کہ وہ واقعی نکولس مادورو ہیں۔عام طور پر، ملزم مختصر جواب دیتا ہے کہ وہ کون ہے، لیکن مادورو نے موقع پا کر بھرے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کا صدر ہیں جنھیں اغوا کیا گیا ہے۔

انھوں نے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا ’مجھے میرے گھر کاراکس، وینزویلا میں پکڑا گیا۔‘جج نے مداخلت کی اور کہا کہ اس کے لیے بہتر وقت اور جگہ‘ ہوگی کہ وہ یہ بات شیئر کریں ان کے کیس میں مزید سماعت 17 مارچ کو ہو گی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں