پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید کا آخری پیغام مفاہمت تھا، 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا۔
سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر مملکت آصف زرداری، بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ ہمیں ملک کو سیاسی بحران سے نکالنا ہے تاکہ معاشی بحران سے نکل سکیں، صدر زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔
یہ بھی پڑھئیے
سہیل آفریدی لاھور میں،وزرا کو دھکے، "لگتا ہے اپ سب کو وٹس اپ پر ایک ہی سوال آیا ہے” – urdureport.com
لاھور میں بسنت منا نے کے لیے تین دن مقرر،سخت پابندیاں – urdureport.com
انہوں نے کہاکہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مفاہمت ناگزیر ہے، اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ اس سال کی سب سے بڑی کامیابی جنگ کے میدان میں بھارت کو شکست دینا ہے، لیکن یہ کامیابی گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ ہو پاتی، کیوں کہ بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت اور بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی دی۔
انہوں نے کہاکہ مئی کی جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا نام سن کر غائب ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جن طیاروں نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو گرایا، وہ صدر زرداری نے منگوائے تھے، اس کے علاوہ صدر مملکت نے ملک کو سی پیک کا تحفہ دیا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ وفاق کے معاشی مسائل ہمارے مسائل ہیں، اور بحیثیت محب وطن پاکستانی میں چاہوں گا کہ وفاق کی پریشانی دور کروں۔
انہوں نے کہاکہ وفاق صوبوں سے اختیارات لینے کے بجائے مزید ذمہ داریاں دے تاکہ مسائل حل ہو سکیں، ہم مل کر مسائل کا حل نکالیں گے، صوبے ایف بی آر سے بہتر ٹیکس اکٹھا کر سکتے


