پاکستان کے کئی ائیر پورٹس کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے ایئر پورٹس پر امیگریشن حکام نے بعض ایسے لوگوں کو بیرون ملک پروازوں پر سوار ہونے سے روکا جن کے پاسپورٹس پر ورک ویزا تھے ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے پاس ورکر کلاس ہے جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے متعدد پاکستانی ورکرز کو ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 38 لاکھ مرد جبکہ 21 لاکھ خواتین بیروزگار ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ادارہ اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کر رہا ہے اور ’اگر کسی اہلکار کے اختیارات کے غلط استعمال کی نشاندہی ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے رفعت مختار نے کہا کہ ابتدائی رپورٹس لاہور اور کراچی ایئرپورٹس سے موصول ہوئی ہیں جہاں کچھ مسافروں کو مکمل سفری دستاویزات ہونے کے باوجود ملک سے باہر روانگی کی اجازت نہیں دی گئی۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے اپنے بیان میں ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے متعدد پاکستانی ورکرز کو ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ایئر پورٹ پر مجھے جہاز میں نہیں بیٹھنے دیا گیا اور واپس بھیج دیا گیا۔
پاکستان کے مختلف ہوائی ادوں سے جن مسافروں کو بیرون ملک سفر سے روکا جا رہا ہے ان کی عمومی شکایت سامنے ارہی ہیں کہ ایک تو ان کا ٹکٹ جو کہ ایک لاکھ روپے سے زائد تک کا ہوتا ہے جب ان کو آف لوڈ کیا جاتا ہے تو وہ ضائع ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ ان کا ورک ویزا بھی متاثر ہو جاتا ہے ۔
ورکرز کو کیوں آف لوڈ کیا جاتا ہے؟
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کا خیال ہے کہ مزدور جب اپنے آبائی ائیر پورٹ سے دوسرے ائر پورٹس سے سفر کر تے ہیں تو ان پر شکوک و شبہات بڑھ جاتے ہیں حالانکہ مزدور حضرات سستے ائیر ٹکٹ کے چکر میں دوسرے صوبوں کے ائیر پورٹ سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں اور عموماًوہ ایسا کر نے کے لیے کراچی ائیر پورٹ کا رخ کر تے ہیں۔
کچھ کو انسانی سمگلنگ کا شکار بننے کے شک میں روکا گیاکچھ عرصے کے دوران مسافروں کو خلیجی ممالک سے افریقہ پہنچایا جاتا ہے جہاں سے انھیں کشتیوں کے ذریعے یورپی ممالک بھیجا جاتا ہے۔کچھ مسافر ایسے تھے جن کے کوائف میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔چھ مسافروں وزٹ ویزے پر سفر کررہے تھے مگر وہ مالی وسائل، تصدیق شدہ ہوٹل بکنگ وغیرہ فراہم نہ کرسکے۔
اس بارئے پروموٹرز ایسو سی ایشن کے متعدد نمائندوں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ جب ورکرز کو آف لوڈ کر کے روکا جاتا ہے تو اس سے بیرون ملک بھی اچھا تا ثر نہیں جاتا کہ کیو ں ایسے افراد کو روکا گیا ہے جو کہ ان کے ملک کا سفر کر رہے تھے آخر مسافروں کے بھیس میں کون لوگ سفر کر تے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
خلیجی ممالک کا گرینڈ ٹوور ویزےکا اجراء،ایک ویزے پر تمام ممالک کا سفر – urdureport.com
پی آئی اے عملے کے فرار کے لیے کینیڈا فیورٹ ملک بن گیا،ایک اور فضائی میزبان غائب – urdureport.com
پاکستان اوورسیز امپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین محمد عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ مکمل اعداد وشمار تو دستیاب نہیں ہیں کہ کتنے ورک ویزا والوں کو آف لوڈ کیا گیا ہے مگر یہ تعداد کافی زیادہ ہے اور ان کی معلومات کی حد تک اس کی دو ممکنہ وجوہات سامنے آئی ہیں۔

