وفاقی حکومت نے سمارٹ فون پر بھاری ٹیکسز پر نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
یہ یقین دہانی منگل کو نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام سمیت حکومتی وزرا کی طرف سے بھی کرائی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں درآمد شدہ موبائل فونز پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس عائد کیے جانے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔
رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی طرف سے اٹھائے گئے نکتے پر پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اس تجویز پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ سمارٹ فون پر موجودہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ اب ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ فونز لگژری نہیں بلکہ ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی اس پالیسی کے خلاف ہیں اور حالیہ دنوں میں انھوں نے خود اپنے ایک فون کے لیے ایک لاکھ 33 ہزار کا ٹیکس دیا ہے۔
علی قاسم گیلانی کے مطابق چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ’سمارٹ فونز اب لگژری آئٹم نہیں ضرورت کی چیز بن گیا ہے۔ یہ والا موقف اب نہیں چل سکتا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں۔
نوید قمر نے مزید کہا کہ ’ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بے تحاشہ ٹیکس لے رہی ہے۔ کیا اس ملک میں بڑی گاڑی یا موبائل فون رکھنا گناہ ہے۔ موبائل فون کوئی لگثرری آئٹم نہیں بلکہ ہر کسی کی ضرورت ہے۔‘
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں قاسم گیلانی نے بتایا کہ بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں, چھ سال پرانا آئی فون 12 بھی تقریباً 75 ہزار روپے کے ٹیکس کے تحت آتا ہے۔
علی قاسم گیلانی نے کمیٹی کو بتایا کہ ’آئی فون 6 پر 35 ہزار ٹیکس اور آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے ٹیکس ہے۔ لوگ سمارٹ فونز پر کانٹنٹ بنا کر ویڈیوز ڈال رہے ہیں اور ای کامرس کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
ایک آئی فون 17 کی قیمت لاكھوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی سالانہ کمائی سے بھی زیادہ – urdureport.com
ایپل نے آئی فون 17 سیریز متعارف کرادی، اب تک کا سب سے پتلا اسمارٹ فون بھی شامل – urdureport.com
ان کے مطابق ’لوگ دو دو فون استعمال کر رہے ہیں، ایک نان پی ٹی اے ہوتا ہے۔ موبائل فونز پر ٹیکس ریٹ کم کرنے سے لوگ فائلر بنیں گے۔ اس سے رجسٹریشن میں بھی اضافہ ہو گا۔ موبائل فونز پر نو، نو لاکھ روپے بھی ٹیکس ہے۔ ٹیکس زیادہ ہونے سے فری لانسرز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔‘
علی قاسم گیلانی نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چیئرمین پی ٹی اے نے اراکین کی اس تجویز سے اتفاق کر لیا کہ سمارٹ فونز پر عائد ٹیکسز کی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی اراکین اور چیئرمین پی ٹی اے کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور سیکریٹری خزانہ نے بھی اس معاملے پر مثبت رویہ اختیار کیا۔
اجلاس میں پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکسز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ ایف بی آر کے تحت ہیں۔
علی قاسم گیلانی کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر، وزارت خزانہ میں قائم ’ٹیکس پالیسی آفس‘ اور پی ٹی اے مل کر ان ٹیکسز کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور مارچ تک سمارٹ فونز پر ٹیکسز سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔
ان کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ یہ نظرثانی اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اب پاکستان 5 جی سپیکٹرم کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس وقت ملک میں صرف دو فیصد ہی موبائل ایسے ہیں جن پر یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔
علی قاسم گیلانی نے کہا کہ ’مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اس معاملے پر دونوں اجلاسوں کی کارروائی کو باقاعدہ منٹس یعنی کارروائی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔‘

