وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے زچگی چھٹی کے دوران ایک نجی کمپنی کی خاتون ملازمہ کی برطرفی کو کالعدم قرار دتے ہوئے اس کو بحال کر نے کا حکم دیا ہے جبکہ کمپنی پر جرمانہ بھی عاید کیا ہے۔
2024 درخواست گزار زینب زہرہ اعوان ماں بننے کے بعد میٹرنٹی لیو (زچگی کی رخصت) پر تھیں۔ زینب کے مطابق نجی کمپنی نے 20 جولائی 2022 کو انھیں ایچ آر مینیجر کے عہدے پر تعینات کیا۔ بعد ازاں 2024 میں انھوں نے زچگی کی چھٹی کے لیے درخواست دی جو باقاعدہ طور پر 8 مارچ 2024 کو 14 مارچ سے 14 جون 2024 تک کے لیے منظور کر لی گئی۔ مگر ان کے بقول دورانِ رخصت انھیں 24 اپریل 2024 کو برطرفی کا نوٹس موصول ہو گیا۔
یعنی زینب کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برخاست کیا گیا جس پر انھوں نے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی سے رجوع کیا۔
اس کیس کے فیصلے میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے نہ صرف نجی کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا بلکہ متاثرہ خاتون کو ملازمت پر بحال کرنے کا بھی حکم دیا۔ فیصلے کے مطابق جرمانے کی رقم میں سے آٹھ لاکھ روپے خاتون کو ادا کیا جائے گا جبکہ دو لاکھ قومی خزانے میں جمع کروا یا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
پنجاب کی جیلیں قیدیوں سے بھر گئیں،سانس لینے میں بھی مشکل – urdureport.com
وفاقی حکومت نے گندم پالیسی منظور کر لی قیمت 3500 روپے من مقرر – urdureport.com
