• Home  
  • ٹرمپ انتطامیہ کے خلاف فیصلہ سنانی والی جج کو پہلے دھمکیاں گھر میں آگ
- دنیا

ٹرمپ انتطامیہ کے خلاف فیصلہ سنانی والی جج کو پہلے دھمکیاں گھر میں آگ

جنوبی کیرولائنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج کو پہلے موت کی دھمکیاں دی گئیں لیکن اب ان کے ایڈسٹو بیچ پر واقع گھر میں پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ سرکٹ کورٹ کے جج کو ریاست کو ووٹروں کے رجسٹریشن کے حساس دستاویزات کو […]

جنوبی کیرولائنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج کو پہلے موت کی دھمکیاں دی گئیں لیکن اب ان کے ایڈسٹو بیچ پر واقع گھر میں پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی۔

ذرائع نے کہا ہے کہ سرکٹ کورٹ کے جج کو ریاست کو ووٹروں کے رجسٹریشن کے حساس دستاویزات کو وفاقی حکومت کے حوالے کرنے سے روکنے کے ان کے متنازعہ فیصلے کے بعد گذشتہ چند ہفتوں کے دوران موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج 69 سالہ ڈیان گڈسٹین کے گھر میں ان کے شوہر سابق سینیٹر آرنلڈ گڈسٹین اور ان کا بیٹا موجود تھے جو جھلس کر زخمی ہو گئے۔ جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا اس با رے موقف سامنے آیا ہے کہ واقع کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مذکورہ سالہ ڈیان گڈسٹین جج نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد انہیں کئی بار قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

جنوبی کیرولائنا کے ایک ووٹر این کروک نے جنوبی کیرولائنا الیکشن کمیشن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا، جس کی سماعت کرتے ہوئے جج ڈیان گڈسٹین نے گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن کو ووٹر فائلیں محکمہ انصاف کو جاری کرنے سے روک دیا تھا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے تنقید کی تحی۔بعد ازاں گڈسٹین کے فیصلے کو ریاستی سپریم کورٹ نے تبدیل کر دیا تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں