امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ چین نے دنیا کو نایاب معدنیات کی برآمد جاری رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے اور امریکا چین سے درآمد ہونے والی فینٹائل سے متعلق اشیا پر عائد محصولات کو 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دے گا ۔اس بات کا جائزہ لیتے ہیں آخر کار یہ نایاب معدنیات امریکہ کے لیے اتنی ضروری کیو ں ہیں؟
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دورہ ایشیا مکمل کرنے کے بعد جنوبی کوریا سے روانگی کے بعد صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ چین نے دنیا کے لیے نایاب معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) کی برآمدات جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
نبنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہ نایاب معدنیات 17 ایسے عناصر ہیں جو گاڑیوں، طیاروں اور ہتھیاروں میں انتہائی اہم مگر معمولی مقدار میں استعمال ہوتے ہیں جو کہ امریکا اور چین کی تجارتی جنگ میں چین کے لیے ایک اہم آلہ بن گئے۔
اپریل میں برآمدی پابندیوں کے نفاذ کے بعد دنیا بھر میں نایاب معدنیات قلت پیدا ہو گئی یہ نایاب معدنیات گاڑیو ں میں استعمال ہو تے ہیں اور جن کی کمی ہو ئی ان میں خاص طور پر وہ میگنیٹس شامل تھے جو کہ گاڑیوں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں اور جس کے باعث کچھ کار ساز کمپنیوں کو پیداوار روکنی پڑی جو کہ دوبارہ بیجنگ، واشنگٹن اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کے بعد برآمدات بحال ہوئیں۔
اکتوبر میں چین نے ان پابندیوں کو مزید بڑھاتے ہوئے 12 عناصر اور ان کے پراسیسنگ کے آلات کو بھی کنٹرول کی فہرست میں شامل کر دیا، یہ نئی پابندیاں نومبر کے اوائل میں نافذ ہونے والی تھیں، یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کے بیان کردہ معاہدے میں تمام موجودہ برآمدی پابندیاں شامل ہیں یا پھر یہ صرف اکتوبر میں عائد کردہ نئی توسیع سے متعلق ہے۔
یہ معاہدہ ایک سال کے لیے ہوگا، تاہم چین نے تاحال دونوں رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی جذئیات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو جنوبی کوریا کے ایک ایئربیس پر ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے امید ظاہر کی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے نایاب معدنیات بارے کہا ک ’تمام نایاب معدنیات کا معاملہ طے پا گیا ہے، اور یہ دنیا کے لیے ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ صرف امریکا کا نہیں بلکہ ایک عالمی معاملہ تھا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’اب نایاب معدنیات پر کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔
طیارے میں موجود امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ دونوں صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے بعد چین اپنی مجوزہ نایاب معدنیات کی پابندیاں نافذ نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے پہلے سے نافذ شدہ کنٹرولز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جبکہ فیناٹائیل جس پر محصولات کم جا رہا ہے یہ ایک فینٹائل (Fentanyl) ایک انتہائی طاقتور مصنوعی (synthetic) درد ختم کرنے والی دوا ہے جو افیون (opioid) گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔یہ دوا مورفین (Morphine) سے تقریباً 50 سے 10 گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور کینسر یا سرجری کے بعد درد میں دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
مجھے جنگیں رکوانا پسند ہے پاک افغان مسائل جلد حل کر لوں گا، صدر ٹرمپ – urdureport.com
روس نے جوہری کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا، ،15گھنٹے فضا میں رہا – urdureport.com

