تحریر طارق اقبال چوہدری

ڈنڈاس اسٹریٹ آج بھی ٹورنٹو کی شناخت کا حصہ ہے۔ اگرچہ اس کا ماضی ایک متنازٰعہ شخصیت کی سوچ کے ساتھ جڑا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے لاکھوں انسان غلامی کی زندگی میں رہنے پر مجبور ہوئَے،مگر آج یہ سڑک دنیا میں آزادی کی علامت بن چکی ہے۔ جو کہ آزاد سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔

ٹورنتو کی مشہور ڈانڈس سٹریٹ کا تنا زع کیا ؟
ٹورنٹو کی مشہور اور قدیمی سڑک ڈنڈاس اسٹریٹ کا نام ایک متنازع برطانوی سیاست دان ہنری ڈنڈاس کے نام پر رکھا گیا جو کہ اجکل پورے کینیڈا میں مو ضوع بحث ہے،ہنری ڈانڈس جن کا اٹھارویں صدی میں سلطنتِ برطانیہ کے طاقتور وزیروں میں شمار ہوتا تھا۔آج کے دور میں یورپی ممالک اور ہر شہری اس سٹریٹ کا نام تبدیل کر نے کی خواہش کرتا ہے اور حکومت نے اس پر فیصلہ کیا کہ اب بس بہت ہو گیا اب اس سڑک کا نام تبدیل کر دیا جائے گا۔
مگر ایسا کیا ہوا کہ ٹورنٹو کے لوگ اس سڑک کو ایک ایسے نام کے ساتھ جوڑنے کو ذرا بھی پسند نہیں کرتے جو کہ تاریخ کی ایک متنازع شخصیت ہو۔
ڈانڈس سٹریٹ سے نام کیوں ہٹایا جائے ؟
در اصل کینیڈا کے لوگوں نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ غلامی کے زیر اثر زندگی نہیں گزارنا،بے شک معاملہ کینیڈا کے مقامی indigenous people کا ہو جن پر ماضی میں ظلم ڈھائے گئے جن کے بچوں کو بورڈنگ سکولوں ہوسٹلوں میں زبردست رکھا گیا ان سے ان کی شناخت کو چھننے کی کو شش کی گئی تو اس پر کینیڈا کے وزیر اعظم نے معافی بھی مانگی اور یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے کہ ایک ایسا برطانوی وزیر جو کہ غلامی کو فوراً ختم کر نے کے حق میں نہیں تھا اس کے نام سے منسوب سڑک سے اب اس کا نام ہٹایا جا رہا ہے۔
چند صدیوں قبل کی بات ہے کہ سیاہ فام مرد، عورتیں اور بچوں کو زبردستی پکڑ کر بحیرہٴ اٹلانٹک کے پار امریکہ اور کیریبین لے جایا جاتا تھا ، جہاں انہیں کھیتوں، کانوں اور شوگر ملوں میں غلام بنا کر کام پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ تقریباً چار سو سال تک جاری رہا اور لاکھوں غلام انسان راستے ہی میں ہی مر گئے۔ بالآخر 1807 میں برطانیہ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کی اور 1833 میں غلامی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا۔

برطانوی پارلیمنٹ میں 1792 میں ہنری ڈانڈس نے غلاموں کی اس تجارت غلامی ٹریڈ ایکٹ 1807 ختم کرنے کی تحریک کی حمایت تو کی، مگر انہوں نے یہ شرطہ رکھی کہ غلامی کو فوری نہیں بلکہ “بتدریج” ختم کیا جائے۔ اس فیصلے کے باعث غلاموں کی آزادی میں تقریباً پندرہ سال کی تاخیر ہوئی، اور لاکھوں افریقی غلام مزید ظلم و جبر کا شکار بنے اور لاکھوں زندگیا غلامی کی بھینٹ چڑھ گئِں۔ اسی وجہ سے آج ان کا نام غلامی کے نظام کو طول دینے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ پڑھیں
نوبیل انعام کا آغاز کیوں ہوا جس کی خواہش طاقتور امریکی صدر بھی رکھتے ہیں۔ – urdureport.com
ٹیوڈر تاج کیوں اہم ہو گیا،برطانیہ میں پھر ٹیودر تاج والے پاسپورٹ بنیں گے – urdureport.com
ڈنڈاس اسٹریٹ اور سینکوفا اسکوائر
ڈنڈاس اسٹریٹ (Dundas Street) کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کی ایک مشہور، پرانی اور تاریخی شاہراہ ہے جو مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ سڑک ٹورنٹو کی شہری زندگی، ثقافت، تجارت اور آرٹ کی علامت سمجھی جاتی ہے، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ گزرتے ہیں۔ اس کے کنارے واقع “یانگ اینڈ ڈنڈاس اسکوائر” (Yonge–Dundas Square) کو کینیڈا کا “ٹائمز اسکوائر” بھی کہا جاتا ہے۔ دسمبر 2023 میں ٹورنٹو سٹی کونسل نے فیصلہ کیا کہ اس چوک کا نام تبدیل کر کے “سینکوفا اسکوائر” (Sankofa Square) رکھا جائے۔ لفظ Sankofa گھانا (Ghana) کی اَکان (Akan) زبان کا ہے، جس کا مطلب ہے “ماضی سے سبق لے کر آگے بڑھنا”۔ یہ نام اس بات کی علامت ہے کہ شہر اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ایک بہتر اور منصفانہ مستقبل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔
ڈنڈاس اسٹریٹ کا نام رکھنے کی تاریخ
ڈنڈاس اسٹریٹ کا نام ہنری ڈنڈاس (Henry Dundas) کے نام پر اٹھارہویں صدی کے آخر میں رکھا گیا۔ اُس وقت کینیڈا، خاص طور پر اونٹاریو اور ٹورنٹو کا علاقہ، برطانوی سلطنت کے زیرِ اثر تھا۔ ہنری ڈنڈاس برطانوی حکومت کے ایک نہایت بااثر وزیر تھے جنہوں نے برطانوی نوآبادیاتی نظام میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً شمالی امریکا، بھارت اور کیریبین کے امور سے متعلق۔ جان گریوز سمکو (John Graves Simcoe)، جو اُس وقت اپر کینیڈا کے گورنر تھے، نے 1793 میں ٹورنٹو سے لندن (اونٹاریو) تک بننے والی ایک بڑی سڑک کا نام ڈنڈاس اسٹریٹ رکھا۔ یہ نام ہنری ڈنڈاس کی سیاسی خدمات اور برطانیہ سے وفاداری کے اعتراف میں رکھا گیا تھا تاکہ کینیڈا میں برطانوی اقتدار اور اثرورسوخ کو ظاہر اور مضبوط کیا.جب میں نے ٹورنٹو وزٹ کے دوران دوستوں ماجد جرال اور اشتیاق احمد اور عمران یعقوب ڈھلوں کے ہمراہ ڈانڈس سکوائر کا وزٹ کیا تو معلوم ہوا یہ تو ٹورنٹو کا ٹائم سکوائر بھی کہلاتا ہے اور با رونق ایریا ہے۔



کیا ٹورنٹو میں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی تھی؟
ٹورنٹو یا اونٹاریو میں غلاموں کی خریدو فروخت عام نہیں تھی۔ 1793 میں گورنر جان گریوز سمکو نے “Act Against Slavery” کے نام سے ایک قانون منظور کیا جس نے غلامی کو بتدریج ختم کرنے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد کینیڈا غلاموں کے لیے ایک پناہ گاہ (Safe Haven) بن گیا، جہاں امریکہ سے بھاگنے والے غلام “Underground Railroad” کے ذریعے آزادی حاصل کرنے آتے تھے۔ اس لیے ڈنڈاس اسٹریٹ پر غلاموں کی منڈی کبھی موجود نہیں رہی، بلکہ تنازعہ صرف نام رکھنے والے شخص کی پالیسیوں سے جڑا ہے۔

جدید دور میں ردِعمل
ابھی صرف “یانگ اینڈ ڈنڈاس اسکوائر” (Yonge–Dundas Square) کا نام تبدیل کیا گیا ہے، جسے اب سرکاری طور پر “سینکوفا اسکوائر” (Sankofa Square) کہا جاتا ہے۔ تاہم “ڈنڈاس اسٹریٹ” (Dundas Street) کا نام ابھی تک تبدیل نہیں ہوا۔ ٹورنٹو سٹی کونسل نے سڑک کے نام کی تبدیلی پر غور تو کیا تھا، لیکن چونکہ یہ سڑک تقریباً 500 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو سے لندن (اونٹاریو) تک پھیلی ہوئی ہے، اس لیے اس کی تبدیلی ایک بڑا انتظامی اور مالی عمل ہے۔ اسی وجہ سے فی الحال صرف اسکوائر کا نام بدلا گیا
تاکہ ہنری ڈنڈاس کی متنازعہ تاریخی وراثت سے فاصلہ ظاہر کیا جا سکے۔ سڑک کے نام کی تبدیلی پر بحث اور عوامی مشاورت کا عمل اب بھی جاری ہے۔

