• Home  
  • پاکستان حالتِ جنگ میں — دہشت گردی کی نئی لہر
- پاکستان

پاکستان حالتِ جنگ میں — دہشت گردی کی نئی لہر

تحریر: عبیدالرحمٰن عباسی پاکستان ایک بار پھر حالتِ جنگ میں ہے۔ وانا کی دہشتگردی اور اسلام آباد میں دھماکے، بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی، اور خیبرپختونخوا میں خوارج کے بڑھتے اثر و رسوخ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر نہ صرف لوٹ آئی ہے بلکہ پہلے سے […]

پاکستان ایک بار پھر حالتِ جنگ میں ہے۔ وانا کی دہشتگردی اور اسلام آباد میں دھماکے، بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی، اور خیبرپختونخوا میں خوارج کے بڑھتے اثر و رسوخ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر نہ صرف لوٹ آئی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم اور خطرناک ہو چکی ہے۔ دو دہائیوں کی قربانیوں اور فوجی آپریشنز کے باوجود شدت پسند نیٹ ورک ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔

وانا میں ہونے والے حالیہ دھماکے، اسلام آباد کے دل میں خودکش حملے، اور بلوچستان میں فورسز و شہریوں پر منظم حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گرد اب کسی ایک خطے یا تنظیم تک محدود نہیں رہے۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں خوارج کی تنظیمیں از سرِ نو سرگرم ہیں، جبکہ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر اور بین الاقوامی نیٹ ورکس کے روابط خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔


یہ دہشت گردی محض بارود کی جنگ نہیں بلکہ ایک نظریاتی، مالی اور نفسیاتی مہم ہے — جس کی جڑیں افغانستان کی بدلتی صورتحال، ریاستی پالیسی کی کمزوری، اور معاشرتی انتشار میں پیوست ہیں۔

اسلام آباد کے حالیہ حملے کے بعد وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے آج ایک غیر معمولی بیان دیا جس نے قومی و بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی۔
انہوں نے کہا:“ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ اسلام آباد پر حملہ کسی ایک شہر یا خطے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ جنگ افغان سرحدوں سے نکل کر ملک کے دل میں آ چکی ہے — یہ اب پورے پاکستان کی جنگ ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ “پاکستان پوری قوت اور عزم کے ساتھ اس دہشت گردی کا جواب دے گا، اور یہ وقت خاموشی یا مذاکرات کا نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن حکمتِ عملی کا ہے۔” وزیرِ دفاع کے اس بیان نے یہ عندیہ دیا کہ ریاست اب دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ پالیسی کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ عزم عملی اقدامات میں بھی نظر آئے گا؟
ریاستی پالیسی اور ماضی کی غلطیاں؛

2009 سے 2017 تک کے دوران ضربِ عضب، راہِ نجات، اور ردالفساد جیسے آپریشنز نے بظاہر دہشت گردی کو محدود ضرور کیا، مگر اس کے فکری، مالی اور افرادی ڈھانچے کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ مدارس اصلاحات، سرحدی نگرانی، اور نوجوانوں کی نظریاتی تربیت جیسے اقدامات محض وعدوں تک محدود رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی زیرِ زمین چلی گئی — اور اب زیادہ منظم انداز میں واپس آ رہی ہے۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیاں اور بیرونی مداخلت نے ریاستی اداروں کے لیے ایک نئی سطح کا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں خوارج کا دوبارہ ظہور اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریاتی شدت پسندی ابھی زندہ ہے۔ سوشل میڈیا پر ان گروہوں کی مہمات نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں، اور یہی مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

اسی دوران ایک اور افسوسناک خبر سامنے آئی — پاکستان کے معروف فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کے حجرے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم حملے کے محرکات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ملک میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔


یاد رہے کہ نسیم شاہ وہی کرکٹر ہیں جنہوں نے چند برس قبل افغانستان کے خلاف ایک یادگار میچ میں آخری اوور میں دو چھکے لگا کر پاکستان کو فتح دلائی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان تلخ جذبات پیدا ہوئے تھے۔ اب جب کہ ان کے گھر پر حملہ ہوا ہے، بعض مبصرین اسے اسی پس منظر سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف ایک اسپورٹس مین پر حملہ ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ شدت پسندی کھیل، فن اور عوامی زندگی میں سرایت کر چکی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں