رپورٹ : طارق اقبال چوہدری

دنیا میں امریکہ کی معشیت کو مضبوط ترین تصور کیا جاتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ دنیا میں اس وقت وہ ملک ہے جس کے پاس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر ہیں، یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جن ممالک کے پاس جتنے زیادہ سونے کے ذخائر ہوں گے اُس کی کرنسی اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے مرکزی بینک اپنے غیر ملکی اثاثوں کو سونے میں محفوظ کرتے ہیں۔
پاکستان کے پاس سونے کے ذخائر
دنیا میں سب سے زیادہ سونے کے ذخائر امریکہ کے پاس ہیں اور امریکہ کے پاس مجموعی طور پر 8133 ٹن (81 لاکھ کلوگرام سے زیادہ) سونے کے ذخائر موجود ہیں جو اُس کے مجموعی غیر ملکی اثاثوں کا 78 فیصد ہیں جس کے بعد دیگر ممالک کا نمبر آتا ہے اور اس وقت دنیا مین سونے کی قیمت میں اضافہ بھی اسی دوڑ کی بدولت ہے جس میں چین اور دیگر ممالک سونے کے بڑے خریدار ہیں۔

اگر ان تمام باتو ں کو ذہن میں رکھیں تو کیا پاکستان کے مرکزئی بینک کے پاس اتنے سونے کے ذخائر موجود ہیں کہ اس کی کرنسی اور ملکی معشیت میں استحکام آسکے تو اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کا مرکزی بینک غیر ملکی زرمبادلہ کے اثاثوں میں مختلف ممالک کی کرنسی اور سونا بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے پاس 64.7 ٹن (64700 کلوگرام) سونا موجود ہے جس کی مالیت سات ارب ڈالر ہے دنیا میں 46ویں نمبر پر موجود ہے۔
دنیا کے سونے کے ذخائر رکھنے والے ٹاپ ٹین ممالک
آئی ایم ایف کے ڈیٹا کے مطابق سنہ 2024 تک دنیا کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود 36200 ٹن سونے کے ذخائر موجود تھے جن میں 16400 ٹن سونا صرف امریکہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے پاس ہے۔ جن کا غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا 70 فیصد سے زیادہ سونے پر مشتمل ہے
سونے کی خریداری کی دو ڑ مِن چین بھی کسی سے کم نہیں بلکہ اس وقت سونے کی خریداری کا بڑا خریدار ہے اور سونے سے اپنے غیر ملکی اثاثوں کو طاقتور بنا رہا ہے چین کے مرکزی بینک کے پاس سونے کے 2264ٹن کے ذخائر ہیں جو اُس کے مجموعی غیر ملکی اثاثوں کا محض 6.7 فیصد ہیں۔ چین کے پاس ابھی تک امریکہ کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ سونا ہو گا۔اس کے علاوہ ترکیہ بھہ سونے کی خریداری میں مصروف ہے۔
پاکستان کے پاکستان کے پاس 64.7 ٹن (6400 کلوگرام) سونے کے ذخائر موجود ہیں تو انڈیا کے مرکزی بینک کے پاس 831 ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا 13 فیصد سونے پر مشتمل ہے اور دنیا میں سونے کے بڑے زخائر میں اس کا نواں نمبر ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے 30 جون 2025 کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ سرکاری سونے کے ذخائر امریکہ کے پاس ہیں جو تقریباً 8,133 میٹرک ٹن ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر جرمنی 3,351 ٹن کے ساتھ ہے، تیسرے پر اٹلی 2,452 ٹن، چوتھے پر فرانس 2,437 ٹن اور پانچویں نمبر پر روس تقریباً 2,336 ٹن سونے کے ذخائر رکھتا ہے۔ چین 2,264 ٹن کے ساتھ چھٹے، سویٹزرلینڈ 1,040 ٹن کے ساتھ ساتویں، جاپان 846 ٹن کے ساتھ آٹھویں، بھارت 831 ٹن کے ساتھ نویں جبکہ نیدرلینڈز 612 ٹن کے ساتھ دنیا کا دسواں سب سے بڑا سونا رکھنے والا ملک ہے۔
دنیا کے کس ترقی یافتہ ملک کے پاس سونے کے کوئی سرکارے ذخائر نہیں
ورلڈ گولڈ کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے پاس اس وقت تقریباً کوئی سرکاری سونے کے ذخائر موجود نہیں ہیں۔ دراصل کینیڈا نے 1990 کی دہائی سے لے کر 2016 تک اپنے تمام سونے کے ذخائر فروخت کر دیے تھے۔ حکومت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا کہ سونا ایک غیر منافع بخش اور غیر مستحکم اثاثہ ہے، اس لیے قومی ذخائر میں غیر ملکی کرنسی اور دیگر مالیاتی اثاثے رکھنا زیادہ مؤثر ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ کینیڈا کے پاس اب سرکاری طور پر سونا نہیں، مگر وہ دنیا کے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور وہاں کی کانیں اب بھی سونا پیدا کر رہی ہیں۔
سونے کو مرکزئی بینک میں رکھنا کیو ں ضروری
رواں ماہ کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جس میں وقفے وقفے سے اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے ۔ انٹرنیشل مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 4300 ڈالر تک پہنچ گئی تھی وہیں پاکستان میں بھی سونے کی فی تولہ قیمت ساڑھے چار لاکھ روپے پر پہنچ چکی ہے۔جہاں حالیہ ڈالر کی قدر میں کچھ کمی ہوئی تو سونے کی خرداری بڑھ گئی۔
مرکزی بینکوں کے ذخائر سونے اور غیر ملکی کرنسی پر مشتمل ہوتے تھے اور پاکستان میں بھی غیر ملکی کرنسی اور سونے کے زخائر مرکزئی بینک کے پاس موجود ہیں۔کسی ملک کی کرنسی کی قدر کا انحصار بھی اُس ملک کے مرکزی بینک کے پاس موجود سونے کی ذخائر اور غیر ملکی کرنسی پر ہوتا تھا۔اگر سادہ الفاظ میں دیکھیں تو جس ملک کے پاس زیادہ سونا ہو گا اس کی کرنسی بھی اتنی مضبوط تصور کی جائے گی۔کئی ممالک تو ڈالر کی بجائے سونا رکھنے کو ترجح دیتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے مرکزی بینک کی جانب سے سونے کی خریداری کے سبب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ڈالر کا کمزور ہونا، امریکہ میں شرحِ سود میں کمی، معیشت اور عالمی سطح پر عدم استحکام جیسے عوامل نے سونے کی قدر بڑھا دی ہے اس لیے اب دنیا سونے کی خریداری کر رہی ہے۔
سونا اور دیوالیہ پن
جس ملک کے پاس جتنا سونا زیادہ ہو گا اس کی معشیت اور معاشی صورتحال بھی اتنی مضبوط ہو گی اور کسی ملک کے سونے کے ذخائر جب بیچنے پڑ جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے پاس بیرونی تجارت اور ادائیگیوں کے لیے اب رقم نہیں بچی اور بعض اوقات دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے سونے کے ذخائر پیچنا پڑتے ہیں اور اس تنا ظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں اقتصادی صورتحال میں اتنے خرابی کبھی نہیں آئی کہ سونے کے ذخائر پیچنے پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی و مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح کو چھو لیا – urdureport.com
ریکو ڈک ریلوے منصوبے کی مکمل منصوبہ بندی طلب – urdureport.com
سونے کے بعد چاندی کی قیمت کو بھی پر لگ گئے، متوسط طبقے کے لیے نایاب – urdureport.com
سعودی عرب میں ایک سو کلو میٹر تک سونے کے ذخائر دریافت – urdureport.com

