تحریر عبیدالرحمٰن عباسی

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) ایک بار پھر بحران کی زد میں ہے۔ قومی ایئر لائن کے انجینیئرز اور مینجمنٹ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔ ادارے کی ساکھ اور مسافروں کی مشکلات کے ساتھ ساتھ اب قانونی اور انتظامی جنگ بھی شروع ہونے جا رہی ہے — کیونکہ انجینیئرز ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری جنرل کو برطرف کر دیا گیا ہے، اور دونوں نے “تمام دستاویزات کے ساتھ عدالت جانے” کا اعلان کر دیا ہے۔
ہڑتال نہیں، سلامتی کی پاسداری — انجینیئرز کا موقف

Society of Aircraft Engineers of Pakistan (SAEP) کے مطابق وہ کسی باقاعدہ ہڑتال میں شریک نہیں، بلکہ وہ صرف اُن طیاروں کو کلیئر کر رہے ہیں جو مکمل تکنیکی جانچ پڑتال کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔
انجینیئرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ سال سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، عملہ کم ہے، اور مینجمنٹ دباؤ ڈال رہی ہے کہ بعض پروازوں کو مطلوبہ تکنیکی منظوری کے بغیر روانہ کیا جائے — جو سلامتی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انجینیئرز کے مطابق وہ ادارے کو نہیں روک رہے بلکہ اس کے مسافروں اور فضائی سلامتی کو تحفظ دے رہے ہیں۔
میجنمنٹ کا مؤقف: غیرقانونی احتجاج اور نجکاری کی راہ میں رکاوٹ
یہ بھی پڑھیں
ونٹر فیڈریشن آف دی پاکستان — برف میں گم ایک ناکام ادارہ؟؟ – urdureport.com
پی آئی اے نے مانچسٹر کے لیے فلائیٹس آپریشن میں تو سیع کا فیصلہ کر لیا – urdureport.com
PIA مینجمنٹ کے مطابق انجینیئرز کی یہ کارروائی “غیر قانونی ہڑتال” کے مترادف ہے، جس کا مقصد نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انجینیئرنگ عملے نے کلیئرنس سرٹیفیکیٹس روک کر ادارے کے آپریشنل تسلسل کو خطرے میں ڈالا ہے۔ متعدد پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں کم از کم سات پروازیں منسوخ اور تقریباً ۳۹ تاخیر کا شکار ہوئیں۔
میجنمنٹ نے انجینیئرز ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری جنرل کو برطرف کر دیا ہے، جن پر “غیر قانونی سرگرمیوں” میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
انجینیئرز کا ردِعمل: عدالت کا رخ اور ثبوتوں کے ساتھ دفاع
برطرف ہونے والے صدر اور سیکریٹری جنرل نے اعلان کیا ہے کہ وہ “تمام دستاویزات کے ساتھ عدالت جائیں گے”۔ انجمن کے مطابق برطرفی دراصل اُن کے حق گوئی کے ردعمل کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ اپنی تکنیکی رپورٹس، اندرونی خطوط، تنخواہ ریکارڈ، اور سروس نوٹس عدالت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انجینیئرز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آئینی حقِ نمائندگی اور پیشہ ورانہ عزت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
قانونی پہلو — پاکستان ایسینشل سروسز (مینٹیننس) ایکٹ 1952
PIA تنازع اب قانونی رخ اختیار کرتا جا رہا ہے، خاص طور پر “Pakistan Essential Services (Maintenance) Act, 1952” کے تناظر میں۔
اس قانون کے تحت حکومت کسی بھی سروس کو “ضروری خدمت” قرار دے سکتی ہے، اور ایسی صورت میں ہڑتال یا کام بند کرنے جیسے اقدامات جرم تصور کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں یہ ایکٹ بجلی کے شعبے پر بھی نافذ کیا گیا ہے۔
اگر حکومت PIA کے انجینیئرز کو بھی “Essential Service” کے زمرے میں شامل کر دے تو انجینیئرز کو اپنی کارروائیوں کا قانونی دفاع مضبوط دلائل کے ساتھ کرنا ہو گا۔
عالمی تناظر — ہوائی انجینیئرز کی ہڑتالیں دنیا بھر میں
دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ایوی ایشن انجینیئرز اور ٹیکنیکل ورکرز اپنی مزدوری، سہولیات، اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کے حق میں ہڑتال کرتے رہے ہیں۔
امریکہ میں Boeing Machinists Strike 2024 میں تقریباً 33,000 کارکنوں نے حصہ لیا۔
2025 میں Boeing کے دفاعی یونٹس میں 3,200 انجینیئرز نے تنخواہوں کے تنازع پر ہڑتال کی۔
عالمی سطح پر ایوی ایشن سیکٹر میں 470 سے زائد ورک اسٹاپیجز گزشتہ برس رپورٹ ہوئے۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ انجینیئرنگ عملہ عالمی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ خودمختاری اور سلامتی کے معیار کے تحفظ کے لیے متحرک ہے۔
تجزیہ: ادارہ جاتی کمزوریاں اور شفافیت کا فقدان
PIA کا معاملہ دراصل طویل المیعاد انتظامی ناکامی کا تسلسل ہے۔ انجینیئرز اور انتظامیہ کے درمیان رابطے اور اعتماد کی کمی، شفاف پالیسی کا فقدان، اور بجٹ کے بحران نے ادارے کو مسلسل کمزور کیا ہے۔
اگر سلامتی کے معیار پر سمجھوتہ ہو تو نقصان صرف مالی نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے انجینیئرز کے تحفظات کو محض “احتجاج” نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ایک پروفیشنل وارننگ کے طور پر لینا ضروری ہے۔
تجاویز و سفارشات
- بات چیت کی بحالی:
انجینیئرنگ ایسوسی ایشن اور مینجمنٹ کے درمیان مذاکراتی عمل فوری طور پر شروع ہونا چاہیے۔ متبادل ثالثی میکانزم یا آزاد آڈٹ بورڈ قائم کیا جائے۔ - سلامتی و تکنیکی معیار کی یقین دہانی:
انجینیئرز کو یقین دہانی دی جائے کہ وہ کسی غیر محفوظ پرواز پر دستخط کرنے پر مجبور نہیں کیے جائیں گے۔ - انجینیئرز کے جائز مطالبات:
آٹھ سال سے رُکا ہوا تنخواہ سٹرکچر، الاؤنسز، اور سروس اپ گریڈیشن کی پالیسی فوری طور پر بحال کی جائے۔ - برطرف انجینیئرز کے معاملے پر شفاف انکوائری:
میجنمنٹ کو چاہیے کہ کسی آزاد بورڈ کے ذریعے ان برطرفیوں کا جائزہ لے تاکہ قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔ - قومی مفاد میں توازن:
حکومت، PIA، اور انجینیئرز تینوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ قومی ایئر لائن کی بقا صرف قانونی لڑائی یا دھمکیوں سے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاح سے ممکن ہے۔
PIA
کا موجودہ بحران محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ ادارے میں گہری انتظامی خامیاں موجود ہیں۔ انجینیئرز کا احتجاج سلامتی کے تقاضوں سے جڑا ہے جبکہ مینجمنٹ نجکاری کے دباؤ میں ہے۔ اگر فریقین نے دانشمندی سے بات چیت نہ کی تو نہ صرف عدالتوں میں وقت اور وسائل ضائع ہوں گے بلکہ قومی فضائی ادارے کا اعتماد بھی مزید متزلزل ہو گا۔
پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قومی ایئر لائن کے ماہر انجینیئرز کو دشمن نہیں بلکہ شراکت دار سمجھے — کیونکہ کسی بھی طیارے کی اصل پرواز “ایماندار انجینیئر” کے دستخط سے شروع ہوتی ہے۔

