چین نے ایک بار پھر اپنی بے مثال انجینئرنگ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کا ایک نیا شاہکار تعمیر کر لیا ہے۔ چین کے صوبے گوئیژو میں واقع ’ہواجیانگ گرینڈ کینئن برج‘ کو باقاعدہ طور پر عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ عظیم الشان پُل بیپن دریا پر تعمیر کیا گیا ہے اور اپنی شاندار بلندی اور دلکش ڈیزائن کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور مہارت کا ایک حسین امتزاج ہے جو چین کی ترقی اور تعمیراتی صلاحیتوں کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
اونچائی اور لمبائی کے عالمی ریکارڈ
یہ عظیم الشان پُل 625 میٹر (2050 فٹ) اونچا اور 2890 میٹر (1.8 میل) لمبا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بلند اور کسی بھی پہاڑی علاقے سب سے بڑے اسپین والے پُل کا درجی حاصل کر چکا ہے۔ یہ منصوبہ تین سال میں مکمل کیا گیا اور پل کو کھولنے سے قبل اس کی حفاظت کے پیش نظر تمام تر حفاظتی اقدامات اٹھائے گ انجینئرز نے 96 بھاری ٹرک بیک وقت مختلف حصوں پر کھڑے کر کے لوڈ ٹیسٹ کیا۔
مسافت میں کمی اور سیاحوں کی دلچسپی
یہ پُل نقل و حمل کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ فاصلہ جو پہلے دو گھنٹے میں طے کرتے تھےاب صرف دو منٹ میں مکمل کر سکتے ہیں۔ اس طرح اس علاقے مین سفر کر نے والوں کے لیے آسانی ہو گئی ہے۔ہواجیانگ گرینڈ کینئن برج نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لیے بلکہ سیاحت کے لیے بھی ایک شاندار مقام بن گیا ہے۔ اس پُل پر 207 میٹر بلند لفٹ، ’اسکائی کیفے‘ اور خصوصی پلیٹ فارمز بنائے گئے ہیں۔ ٫
نتیجہ: جدید چین کی انجینئرنگ کا کمال
یہ پُل چین کی جدید انجینئرنگ اور تکنیکی مہارت کی ایک واضح مثال ہے، جو دنیا بھر میں انفراسٹرکچر کے نئے معیار قائم کر رہا ہے۔

