• Home  
  • چین کا بدنام زمانہ منگ خاندان کون جس کے 11 افراد کو سزائے موت سنائی گئی
- خاص رپورٹ

چین کا بدنام زمانہ منگ خاندان کون جس کے 11 افراد کو سزائے موت سنائی گئی

یجنگ.چین میں بدنام زمانہ ما فیا کو کچلنے کے لیے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے کہ ایک چینی عدالت نے پیر کے روز بدنام زمانہ مافیا خاندان کے11افراد کو سزائے موت سنائی ہے، یہ خاندان بڑے پیمانے پر فراڈ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق "منگ” خاندان کے کل 39 […]

چین ،منگ خاندان،۱۱ افراد ۔سزائے موت

یجنگ.چین میں بدنام زمانہ ما فیا کو کچلنے کے لیے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے کہ ایک چینی عدالت نے پیر کے روز بدنام زمانہ مافیا خاندان کے11افراد کو سزائے موت سنائی ہے، یہ خاندان بڑے پیمانے پر فراڈ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

mng family cina,چین منگ خاندان،سزاءے موت،

میڈیا اطلاعات کے مطابق "منگ” خاندان کے کل 39 افراد کو مختلف سزائیں دی گئی ہیں، جن میں مختلف سزاوں کا اعلان کیا گیا ہے جن میں عمر قید اور قید کی دیگر سزائیں بھی شامل ہیں۔

چین اور میانمار کے سرحدی علاقے میں طویل عرصے سے جوا مافیا اور آن لائن فراڈ نیٹ ورکس سرگرم تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مینگ فیملی کے خلاف یہ کارروائی خطے میں قانونی تعاون اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط کرے گی۔

واضع رہے کہ چین کا منگ خاندان برسوں سے جعل سازی اور منظم جرائم کے ذریعے مقامی سطح پر اثرورسوخ رکھتا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق عدالت نے اس گروہ کو معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ قراردیتے ہوئے سخت سزا سنائی۔

اربوں ڈالر کا غیر قانونی نیٹ ورک

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مینگ فیملی، جس کی قیادت مینگ ژوچن (Ming Xucheng) کر رہا تھا، کئی سالوں سے غیر قانونی آن لائن جوا، مالیاتی دھوکہ دہی، اغواء اور قتل جیسے جرائم میں ملوث تھی۔ عدالت کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی ناجائز آمدنی حاصل کی اور ہزاروں افراد کو نقصان پہنچایا۔

جرائم اور مظالم

عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا کہ جو افراد اس نیٹ ورک سے نکلنے یا دھوکہ دہی سے بچنے کی کوشش کرتے، انہیں اغواء، تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا جاتا۔

  • اس عمل میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوئے۔
  • نیٹ ورک نے چینی شہریوں اور میانمار کے مقامی باشندوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا۔

سزائیں اور عدالتی فیصلہ

  • عدالت نے 11 افراد کو سزائے موت سنائی۔
  • کئی دیگر ملزمان کو معطل سزائے موت (جو بعد میں عمر قید میں بدلی جا سکتی ہے) اور عمر قید دی گئی۔
  • کچھ کو 5 سے 24 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

چین کا سخت پیغام

چینی حکومت نے اس فیصلے کو ”قانون کی حکمرانی اور منظم جرائم کے خلاف بڑی کامیابی“ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ فیصلہ سرحدی علاقوں میں سرگرم مجرم گروہوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ کوئی بھی قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں