اپ ڈیٹ سٹوری
ایبٹ آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں ملوث مرکزی ملزم ایک پولیس مقابلے کے دوران ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے‘ ہلاک ہو گیا ہے۔
ایبٹ آباد پولیس کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پولیس کو مطلوب مرکزی ملزم شمریز کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ایبٹ آباد کے دوردراز علاقے میرا رحمت میں روپوش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم اور اس کے دو ساتھیوں نے ’پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے اس موقع پر اپنے دفاع میں معمولی فائرنگ کی۔ جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو ملزم اپنے ٹھکانے پر مردہ پایا گیا۔‘
خیال رہے کہ اس کیس میں دیگر تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔ ایبٹ آباد سے چار دسمبر کو لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش اسی ضلع کے نواحی علاقے سے برآمد ہونے کے بعد تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ایک قریبی دوست نے انھیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی ایبٹ آباد کی عدالت نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں گرفتار 4 ملزمان کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پولیس نے ملزمان کو تین روز کے ریمانڈ کے بعد آج عدالت میں پیش کیا تھا۔پولیس نے عدالت سے 20 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی 5 دنوں میں ڈاکٹر وردہ قتل کیس سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھئیے
ڈاکٹر وردا قتل ، کس طرح67 تولے سونا قیمتی جان لے گیا – urdureport.com
سپریم کورٹ،متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری کے خلاف ٹرائل روکنے کا حکم – urdureport.com
ایبٹ آباد میں قتل کی گئی ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت گلا دبانے اور دم گھٹنے سے ہوئی، مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کے دائیں کندھے، دائیں بازو اور دائیں ہتھیلی پر خراشیں پائی گئی ہیں۔

