محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے کچے کے ڈاکووں کر سرینڈر پالیسی کے تحت کچھ کچے کے ڈاکووں نے سرنڈر کیا ہے اور ذرائع بتا رہے ہیں کہ ابھی دو تین سو مزید ڈاکو سرینڈر کر نے کے لیے آمادہ ہیں ۔ان کو کہاں بسایا جائے گا اور ان کو کس طرح سماج میں واپس نارمل لائف کی جانب موڑا جاتا ہے یہ مرا حل ابھی طے ہو نا باقی ہیں۔
منگل (اکیس اکتوبر) محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے میں عموماً اور لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں لاقانونیت میں کمی کے لیے پہلی جامع سرینڈر پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے ذریع دریاِئے سندھ کے دونوں طرف کچے کے جنگلات میں روپوش ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کی شرط پر جان و مال و معاشی تحفظ اور معاشرہ میں معمول کی زندگی میں واپسی بارئے ترغیبات دی گئیں ہیں۔
سرینڈر پالیسی کے اجرا کے اگلے روز ہی جب کچے کے ڈاکووں نے تشریف لانا تھی تو ان کے استقبال کے لیے شکارپور پولیس لائنز میں ریڈ کارپٹ بچھایا گیا۔ صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار اور آئی جی غلام نبی میمن کے سامنے لگ بھگ 72 ڈاکوؤں نے دو سو سے زائد ہتھیار رکھے۔
ڈائس سے ایک ایک کا نام پکارا جاتا رہا۔ ان کے سروں پر لاکھون روپے کے انعامات تھے اور انہو ں نے ہتیھار ڈالے سرینڈر کیا ہتھیار ڈالنے والوں کی گرفتاری پر مجموعی انعام چھ کروڑ سے زائد تھا۔
سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دو سو سے زائد مزید ڈاکوؤں کو نئی سرینڈر پالیسی سے فائدہ اٹھانے پر آمادہ کر لیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت خبریں سنننے کو ملیں گی اور مزید ڈاکو ہتیھار ڈالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
پنجاب ۔غیر قانونی اسلحہ واپس جبکہ لائسنس یافتہ کے مالک اور اتھارٹی کی تصدیق ہو گی – urdureport.com
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت بنا ئے گی زرداری نے منظوری دے دی، ن لیگ لا تعلق – urdureport.com
سندھ حکومت نے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے لیے ایک سرنڈر پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد امن و امان کی بحالی اور جرائم پیشہ عناصر کو قومی دھارے میں واپس لانا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے ڈاکو اگر رضاکارانہ طور پر قانون کے سامنے پیش ہوں تو انہیں فنی تربیت، روزگار کے مواقع اور سماجی بحالی کی سہولتیں دی جائیں گی.
جبکہ ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ عام معافی نہیں بلکہ قانون کے مطابق مقدمات کا سامنا ضروری ہوگا۔ کچے کے علاقوں میں اس کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور فلاحی منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ دیرپا امن قائم ہو اور جرائم کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے


