• Home  
  • کیا مودی اب برکس کے ساتھ مل کر مغربی تسلط کا مقابلہ کریں گے؟
- دنیا

کیا مودی اب برکس کے ساتھ مل کر مغربی تسلط کا مقابلہ کریں گے؟

ھارتی وزیر اعظم کے دو روزہ دورہ چین کے موقع پر کوریوگراف کیے گئے بھارتی شہریوں کے ہجوم نے ’مودی مودی‘ کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ دوسری جانب چینی میزبانوں نے ان کا استقبال بھارتی کلاسیکی موسیقی سے کیا جس سے ظاہر ہوا کہ انہوں نے بھارتی ثقافت جاننے کے لیے وقت نکالا ہے جبکہ […]

ھارتی وزیر اعظم کے دو روزہ دورہ چین کے موقع پر کوریوگراف کیے گئے بھارتی شہریوں کے ہجوم نے ’مودی مودی‘ کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

دوسری جانب چینی میزبانوں نے ان کا استقبال بھارتی کلاسیکی موسیقی سے کیا جس سے ظاہر ہوا کہ انہوں نے بھارتی ثقافت جاننے کے لیے وقت نکالا ہے جبکہ ایسا ہی کچھ بھارتیوں کے لیے کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تجارت میں بڑا فرق ہے بلکہ ثقافت بھی کافی حد تک مختلف ہے۔

ساڑھی میں ملبوس تین چینی خواتین جن میں سے دو نے راگ دیش میں ستار اور سنتور پر بھارتی قوم پرستوں کا پسندیدہ ترانہ ’وندے ماترم‘ گایا جبکہ تیسری خاتون اس دوران دھن میں طبلہ بجاتی رہیں۔ لیکن یہ پرفارمنس دکھاوے کے لیے نہیں تھی، اس کے پیچھے چین کا مقصد اپنی سافٹ پاور کا مظاہرہ کرکے امریکا کی جانب جھکاؤ رکھنے والے نریندر مودی کو جذباتی طور پر متاثر کرکے برکس کا مقدمہ مضبوط بنانا تھا۔

جنگوں اور استحصالی پابندیوں کو جنم دینے والے مغربی سرمایہ دارانہ ماڈل کو ختم کرنا ایک ایسی ضرورت ہے جو سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے بھی محسوس کی جاتی تھی۔

اگر اس کے تجارتی مفادات کو خطرہ لاحق ہو تو مغرب اپنے دوست اور دشمن کے ساتھ یکساں رویہ اپناتا ہے۔ یہ ریت تو ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی پرانی ہے۔ اس سلسلے میں میرے مشاہدے میں ایک مثال مغرب کا پہلے صدام حسین کو کویت میں الجھانا تھا اور پھر صدام حسین کو دھوکا دینا تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں