تحریر طارق اقبال چوہدری

پاکستان اور چین کے درمیان ہنزہ بلتستان کی خوبصورت وادی شکسام جس کو چین کے حوالے کر کے پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاز پر انڈیا پر برتری ثابت کی اور اس مدبرانہ فیصلے نے آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط پاک چین دوستی کی بنیاد رکھ دی۔ انڈیا کو آج دن تک اس شکسام ویلی پر ہونے والا پاک چین معاہدہ قبول نہیں۔
پاکستان نے چین کے ساتھ کیوں سرحدی تنازع اٹھایا؟
1959 میں پاکستان کو یہ احساس پیدا ہوا کہ چین کے نقشوں میں پاکستان کے کچھ علاقے چین کا حصہ دکھائے گئے ہیں۔
1961 میں صدر ایوب خان نے چین کو اس بارے میں باضابطہ احتجاجی نوٹ بھیجا، مگر چین کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ تاہم جب پاکستان نے اقوام متحدہ میں چین کی رکنیت کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا تو ایک نیا سفارتی دور کا آغاز ہوا۔

جنوری 1962 میں چین نے وہ متنازعہ نقشے واپس لے لیے اور ساتھ ہی مارچ میں سرحدی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی جس کو پاکستان نے بھی خوش آمدید کہا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 13 اکتوبر 1962 کو باضابطہ طور پر شروع ہوئے اور 2 مارچ 1963 کو ایک سرحدی معاہدے پر دستخط ہوئے۔یہ معاہدہ چین کے وزیرِ خارجہ چن یی (Chen Yi) اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کر کے مکمل کیا۔ اس سارے عمل کے پیچھے اگر یہ کہا جائے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی زیرک سفارتکاری کا عنصر شامل تھا تو بے جا نہ ہو گا۔اس معاملے میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیر مین اور عظیم چینی رہنما ماوزے تنگ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جن کی ہدایت پر چین نے کچھ علا قے پاکستان کے لیے چھوڑ دیے تو اس پر وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ “چین نے سرحدی بات چیت میں بھائیوں جیسا سلوک کیا۔”
شکسام کی وادی کی علاقائی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان نے گلگت بلتستان کے شمالی حصے میں واقع شکسام ویلی چین کو 1963ء میں ایک سرحدی معاہدے کے تحت دی۔ یہ علاقہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اور اسے تراپچن (Trans-Karakoram Tract) بھی کہا جاتا ہے۔ شکسام ویلی تقریباً 5,180 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے، شمال میں چین کے سنکیانگ، جنوب میں قراقرم کے پہاڑ، مغرب میں قراقرم پاس اور مشرق میں بھارتی زیرِ قبضہ لداخ کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر انتہائی دشوار گزار اور کم آبادی والا تھا، اس لیے اس پر پاکستان کا عملی کنٹرول محدود تھا۔ اور یہ علاقہ پاکستان انڈیا اور چین کا ماخذ سمجھا جاتا ہے اور اہم سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔
یہ معاہدہ، جسے Trans-Karakoram Tract کہا جاتا ہے، دراصل پاکستان اور چین کے درمیان 1963 میں طے پایا۔ لفظ “Trans” لاطینی (Latin) زبان سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "پار” یا "دوسری جانب”۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ علاقہ قراقرم پہاڑی سلسلے کے اُس پار واقع ہے۔ “شکسام” نام کا ماخذ تبتی (Tibetan) زبان سے ہے، اور پرانی تحریروں میں اسے Shaksgam River Valley یا Shaksgam Tract بھی کہا گیا ہے، کیونکہ اس وادی سے دریائے شکسام (Shaksgam River) گزرتا ہے۔ یہ علاقہ قراقرم کے شمالی حصے میں واقع ہے اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت دشوار گزار اور سرد ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

جب 1947 میں بھارت نے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تو اس نے شکسام وادی پر بھی دعویٰ کرنا شروع کر دیا، یہ علاقہ تاریخی طور پر بلتستان اور ہنزہ کی حدود سے وابستہ تھا۔ 1947-48 کی پہلی پاک–بھارت جنگ بھی جموں و کشمیر کے تنازعے کے باعث ہوئی جب یہ علا قہ بین الاقوامی تنا زعے میں آگیا بعدازاں پاکستان اور چین نے ایک معاہدے کے تھت یہ علا قہ چین کے سپرد کر دیا ۔
ور اس کو پاکستان اور چین کے درمیان ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم بھی تسلیم کیا گیا۔انڈیا نے کبھی بھی اس پاک چین باونڈری کو تسلیم نہیں کیا اور اس کا یہی مو قف رہا کہ پاکستان نے یہ چین کےساتھ یہ غیر قانونی معاہدہ کیا ہے۔
وادی شکسام کی تاریخی اہمیت
“گریٹ گیم” کے دور میں برطانیہ کو روسی توسیع کا جب خطرہ تھا، اس لیے اس نے سرحد شکسام دریا کے شمال تک بڑھانے کی پالیسی اپنائی، مگر عملی انتظام قراقرم کے جنوب تک ہی محدود رہا۔ 1920ء کی دہائی میں برطانوی حکومت نے شکسام اور رسکم پر اپنے دعوے ترک کر دیے، مگر یہ تبدیلی نقشوں پر ظاہر نہیں کی گئی۔

وادی کا زیادہ تر حصہ شکسام ویلی پر مشتمل ہے اور ماضی میں یہ بلتستان کے علاقے میں شامل ضلع شگر (جو پہلے ایک تحصیل تھی) کے زیرِ انتظام رہا ہے۔ شکسام میں ایک پولو گراؤنڈ شگر کے امچہ شاہی خاندان نے تعمیر کروایا تھا، اور شگر کے راجے ہوتان کے امیروں کو وہاں پولو کھیلنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ پہاڑوں، جھیلوں، دریاؤں اور درّوں کے زیادہ تر نام بلتی یا لداخی زبان میں ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک بلتستان اور لداخ کا حصہ رہا ہے۔
یہ علاقہ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کے درمیان سب سے مشکل اور غیر آباد خطوں میں سے ایک خطہ ہے، پاکستان اور چین کے درمیان معاہدے میں جو کہ بیجنگ میں طے پایا اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان شمالی سرحدی تنازعات کو ختم کرنا تھا۔
پاکستان نے شکسام ویلی چین کو "تحفے میں” نہیں دی تھی بلکہ یہ ایک سرحدی معاہدے (Sino-Pakistan Boundary Agreement 1963)حالانکہ اس بارے یہ کہا جاتا رہا کہ پاکستان نے شکسام ویلی چین کو تحفے میں دے دی تھی تا کہ انڈیا کا راستہ روکا جا سکے اور چین اس کے سامنے ڈٹ جائے گرچہ پاکستان اس مقصد میں بھi کامیاب رہا۔ کے تحت عارضی طور پر سرحدی حد بندی کے طور پر چین کے انتظامی کنٹرول میں دی گئی تھی۔
معاہدے کے تحت پاکستان نے شکسام ویلی چین کے حوالے کی، جبکہ چین نے ہنزہ اور خنجراب کے کچھ علاقے پاکستان کے حق میں تسلیم کیے۔ اس معاہدے میں ایک اہم شق نمبر چھ شامل کی گئی کہ اگر مستقبل میں کشمیر کا تنازع حل ہوتا ہے تو نئی سرحدوں پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات کے دوران چین نے پاکستان کے مؤقف کے ساتھ نہایت لچکدار رویہ اختیار کیا۔
پاکستانی سفارت کار عبدالستار کے مطابق، جب سرحد کی لکیر پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہو چکا تھا تو بعد میں پاکستانی وفد کو احساس ہوا کہ کچھ چرائی کی زمینیں جو نقشے کے مطابق چین کی جانب آ رہی تھیں، وہ تاریخی طور پر ہنزہ کے باشندے استعمال کرتے آئے تھے۔
چینی وزیرِاعظم چو این لائی (Zhou Enlai) نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے سرحد میں تبدیلی پر رضامندی ظاہر کی اور 750 مربع میل زمین پاکستان کے حصے میں شامل کر دی تاکہ ہنزہ کے لوگوں کا تاریخی حق برقرار رہے۔
چین کے ساتھ سرحدی معاہدہ کرنے کی نو بت کیو ں پیش آئی ؟
اس موضوع پر نظردورائی جائے تو واضع ہوتا ہے کہ جانب سے یہ فیصلہ سیاسی، جغرافیائی اور دفاعی وجوہات کے تحت کیا گیا۔ 1962ء میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ ہوئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی تاکہ بھارت کے مقابلے میں ایک مضبوط اتحادی حاصل کیا جا سکے۔
شکسام ویلی چونکہ پہلے ہی چین کے اثرورسوخ میں تھی اور پاکستان کے لیے انتظامی طور پر قابلِ رسائی نہیں تھی کیو نکہ عملاً پاکستان کے لیے اس علا قے میں رسائی حاصل کر نا اور انتظام سنھبالنا قدرے دشوار تھا ، اس لیے یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں سمجھا گیا۔ اس سے بعد میں قراقرم ہائی وے (KKH) کی تعمیر میں بھی آسانی ہوئی جو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کی بنیاد بنی۔

بھارت اس معاہدے کو تسلیم نہیں کر تا اور کہتا ہے کہ گلگت بلتستان ریاستِ جموں و کشمیر کا حصہ ہے، لہٰذا پاکستان کو کسی تیسرے ملک کو اس کی زمین دینے کا حق نہیں۔ تاہم پاکستان اور چین اس ایک معاہدے کی وجہ سے ایک صفہ پر آگئے اور اسے ایک عارضی اور باہمی اتفاق پر مبنی انتظام قرار دیتے ہیں۔
آج شکسام ویلی چین کے سنکیانگ صوبے کے زیرِ انتظام ہے اور عام شہریوں کے لیے بند علاقہ ہے، لیکن چین نے وہاں نگرانی اور سڑکوں کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔شکسام ویلی دنیا کے سب سے بلند اور دشوار گزار علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں کوئی مستقل انسانی آبادی موجود نہیں۔ یہ علاقہ زیادہ تر برف پوش پہاڑوں، گلیشیئرز اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہاں رہائش ممکن نہیں۔شکسام ویلی یا پامیر جیسے پہاڑی علاقوں میں کچھ خانہ بدوش چرواہے گرمیوں میں اونچی چراگاہوں میں جاتے ہیں اور سردیوں میں نچلی وادیوں میں اتر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
YOU ARE FIRED ایک وائرل جملے نے اس کو کیسے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا ؟ – urdureport.com
موسم انتہائی سرد اور سخت ہوتا ہے، سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی گاؤں ہے، نہ ہی کوئی مستقل بستی۔ صرف کبھی کبھار پاکستانی یا چینی فوجی گشت کے دوران یہاں آتے ہیں، یا پھر پہاڑوں پر چڑھنے والے مہم جو (mountaineers) اس خطے میں داخل ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر، شکسام ویلی کا معاہدہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت بنا ،بھارت کی مخالفت کے باوجود، یہ معاہدہ آج بھی پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی اور دفاعی تعاون کی مضبوط بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

