اپ ڈیٹ
خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھا لیا ۔ سہیل آفریدی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور ان کو عمران خان کی ہدا یت کے مطابق علی امین گنڈا پور کے بعد وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔
گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی حلف برداری تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی، پی ٹی آئی کے رہنما اور دیگر حکام شریک تھے۔
حلف برداری تقریب میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس دوران نعرے بازی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
یاد رہے کہ محمد سہیل آفریدی حلقہ پی کے 70 خیبر 2 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔
قبل ازیںپشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر خیبر پختون خوا نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے بدھ کے دن 4 بجے حلف لیں۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگرقبل ازیں گورنر نے حلف نہیں لیا تو اسی دن اسپیکر نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لیں۔
اس سے قبل آج پشاور ہائی کورٹ نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے حلف لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کا عمل چیلنج کر دیا گیا۔
جے یو آئی (ف) کے رکن صوبائی اسمبلی لطف الرحمان نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا اور دوسرے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گیا، نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کا عمل غیرقانونی و غیرآئینی ہے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے دراخواست میں استدعا کی گئی کہ سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں ، انھوں نے 90 ووٹ حاصل کئے جبکہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
تفصیلات کے مطابق نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں علی امین گنڈاپور اور دیگر ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی 90 ووٹ لےکرنئے قائد ایوان منتخب ہوگئے۔
پی ٹی آئی رکن آصف محسود بیرون ملک ہونے کے باعث انتخابی عمل کاحصہ نہ بن سکے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کے پی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں اک موقف تھاکہ ابھی تک کے پی کے کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا اس لیے نئے وزیر اعلیِ کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔
نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ صوبے میں صرف عمران خان کی پالیسی چلے گی، فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں، قبائلی عوام کو بااختیار بنا کر صوبے کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے 30ویں وزیراعلیٰ کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا کہ خیبرپختونخوا صرف عمران خان کا ہے اور یہاں پر عمران خان کی ہی چلے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ان کے اہلِ خانہ کے مشورے کے بغیر کہیں منتقل کیا گیا تو پورے ملک کو جام کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “میرے پاس کھونے کے لیے نہ پیسہ ہے نہ کرسی، میرا سب کچھ عمران خان کے لیے ہے۔”
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں ملک میں جاری ممکنہ فوجی آپریشنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا لیڈر آپریشن کے خلاف ہے تو خیبرپختونخوا میں کوئی آپریشن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ “فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں، دنیا ڈائیلاگ کی طرف جا رہی ہے۔ آپ نے کتنے آپریشن کیے، لیکن دہشت گردی پھر واپس آگئی، یعنی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔”
انہوں نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “براہِ کرم افغانستان کی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، جو بھی فیصلہ کریں، اس میں خیبرپختونخوا حکومت، عوام اور قبائلیوں کو اعتماد میں لیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی صوبے میں دہشت گردی ہے تو حل کے لیے مقامی نمائندوں، لوکل گورنمنٹ اور قبائلی عوام سے مشاورت ناگزیر ہے۔
نو منتخب وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان ان کے لیڈر ہیں، جنہوں نے قبائلی عوام کو عزت اور سیاسی شعور دیا۔ “ہم عمران خان سے سیاست نہیں، عشق کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کا وزیراعلیٰ بننا قبائلی عوام کے احساسِ محرومی کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ہے۔ “میں پرچی سے وزیراعلیٰ نہیں بنا، قبائلی علاقوں کے عوام کے اعتماد سے آیا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ ان کے نام کے ساتھ زرداری، بھٹو یا شریف نہیں جڑا، بلکہ وہ ایک عام قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، “میرا وزیراعلیٰ بننا اس بات کی علامت ہے کہ قبائلی اب حاشیے پر نہیں رہیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ ان کے نام کے ساتھ “آفریدی” ہونے کی وجہ سے کچھ حلقے مخالفت میں آئے، کیونکہ ان کے مطابق 78 سال سے یہی مائنڈ سیٹ صوبے پر حکومت کر رہا ہے جو قبائلیوں کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے افغان مہاجرین کے لیے قیام و خوراک کا انتظام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو شہید تسلیم کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
عوامی فلاح کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں شمسی توانائی کے ذریعے ایک لاکھ بیس ہزار گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمین کو مفت علاج کی سہولت دی جائے گی، جبکہ ہیلتھ کارڈ میں مزید بڑی بیماریوں کا علاج بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ “کسی گھر میں بچہ پیدا ہوا تو تین ماہ تک مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت اٹھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ جو استعفیٰ علی امین نے 8 اکتوبر کو دیا تھا، اس کے متعلق آج تصدیق ہو رہی ہے، گورنر کا اقدام مکمل طور پر غیر آئینی ہے، میں رولنگ دیتا ہوں، سہیل خان کو پارٹی کے چیئرمین نے نامزد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت استعفیٰ دیا، 8 اور پھر 11 اکتوبر کو علی امین نے دو استفے گورنر کو بھیج دیے، دونوں استعفوں پر علی امین نے ہی دستخط کیا ہے۔
بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ علی امین نے جو استعفیٰ دیا ہے، وہ خود منظور ہوتا ہے، وزیراعلیٰ کے پہلے اور دوسرے استعفے کے سائن میں کوئی فرق نہیں، وزیر اعلیٰ کے استعفے کے تمام لوازمات آئین اور قانون کے مطابق تھے۔

