وفاقی حکومتِ پاکستان نے مذہبی سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ایک انقلابی منصوبے کے تحت گرو نانک ایکسپریس وے کی تعمیر کا اعلان کیا ہے یہ صرف ایک سٹرک نہیں بلکہ ایک سکھ مذہبی سیاحت کا مکمل پیکج ہے جو کہ جدید سہولتوں سے اہم آہنگ ہو گا۔

یہ اہم منصوبہ کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو ملک کے موٹروے نیٹ ورک سے جوڑے گا، جس سے ان مقدس مقامات تک ملکی اور غیر ملکی زائرین کی رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔
زائرین کے لیے عالمی معیار کی سہولیات
سڑک کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ مذہبی سیاحوں کو خوشگوار اور باوقار سفری تجربہ حاصل ہو۔

یہ موٹروے سکھ یاتریوں کے سفری تجربے کو یکسر بدل دے گا اور پاکستان کو عالمی مذہبی سیاحت میں ایک نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔حکومت نے زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ایکسپریس وے کے ساتھ تھری فور اور فائیو سٹار ہوٹلوں کی تعمیر کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہوٹل جدید سہولیات سے آراستہ ہوں گے اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں خصوصاً سکھ یاتریوں کے لیے آرام دہ قیام کا بندوبست کریں گے۔
اس کے علاوہ راستے میں ریسٹ ایریاز، ریسٹورنٹس، سروس اسٹیشنز اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، جس سے سفر مزید آسان اور محفوظ ہو گا۔
مقدس سکھ مقامات کو جدید انفراسٹرکچر سے جوڑنے کا منصوبہ
گرو نانک ایکسپریس وے کی تعمیر پاکستان میں مذہبی سیاحت کے شعبے میں ایک سنگِ میل ہو گی جس میں منصوبے کے تحت سیا لکوٹ تا کرتارپور سیکشن کی تعمیر کی ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو سونپی گئی ہے۔
یہ سڑک نہ صرف سفری سہولت بہتر بنائے گی بلکہ کرتارپور صاحب گوردوارہ، جو سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، وہاں آنے والے زائرین کے لیے آرام دہ اور محفوظ سفر کو یقینی بنائے گی۔
سکھ یاتریوں کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کی تشہیری مہم
پاکستانی حکومت مذہبی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ عالمی تشہیری حکمتِ عملی بھی تیار کر رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت لندن، کینیڈا اور امریکہ میں سکھ کمیونٹیز کو ہدف بناتے ہوئے روڈ شوز اور پروموشنل مہمات چلائی جائیں گی۔
ان مہمات میں کرتارپور اور ننکانہ صاحب کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا، ساتھ ہی گرو نانک ایکسپریس وے کی بدولت بہتر رسائی کو بھی نمایاں کیا جائے گا۔
گرو نانک ایکسپریس وے کے معاشی فوائد

یہ منصوبہ نہ صرف مذہبی سیاحت بلکہ علاقائی معیشت کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔ زائرین کی آمد میں اضافے سے ہوٹلوں، دکانوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ حکومت کا خاص زور بین الاقوامی سیاحت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد پر ہے۔
کرتارپور اور ننکانہ صاحب،سکھ مت کا روحانی مرکز
کرتارپور صاحب وہ مقدس مقام ہے جہاں سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے، جبکہ ننکانہ صاحب ان کی جائے پیدائش ہے۔ یہ دونوں مقامات دنیا بھر کے سکھوں کے لیے انتہائی مقدس حیثیت رکھتے ہیں۔
نئے ایکسپریس وے کی بدولت ان مقامات تک رسائی آسان ہو جائے گی اور عالمی سکھ برادری کو اپنی روحانی وراثت سے جڑنے کا بہتر موقع ملے گا۔
پاکستان میں مذہبی سیاحت کا نیا دور
گرو نانک ایکسپریس وے پاکستان میں مذہبی سیاحت کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ جدید انفراسٹرکچر، عالمی معیار کی سہولیات اور بین الاقوامی تشہیری مہم کے ذریعے حکومت کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو عالمی سطح پر نمایاں زیارتی مراکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف سکھ یاتریوں کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ مقامی کمیونٹیز، کاروبار اور سیاحت کے شعبے کو بھی مضبوط کرے گا۔
یہ بھی پڑھئیے
سکھ مت کے بانی بابا گورونانک دیوجی،جن کے ہندو اور مسلمان دونوں معترف تھے – urdureport.com
مغلوں کا شاہی محلہ جہاں آج لاھور کے باسی "کھانوں کے اڈوں” پر لطف دوبالا کرتے ہیں – urdureport.com
مقامی آبادی اور بین الاقوامی زائرین کو فائدہ
اس ایکسپریس وے سے نارنگ منڈی اور بڈو ملہی جیسے قریبی علاقوں کے رہائشی بھی مستفید ہوں گے، جنہیں بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔
یہ منصوبہ خاص طور پر بھارت، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ سے آنے والے بین الاقوامی سکھ یاتریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

