• Home  
  • گلگت بلتستان کا فخر — الپائن اسکیئر محمد کریم چوتھی بار سرمائی اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر گئے
- کھیل

گلگت بلتستان کا فخر — الپائن اسکیئر محمد کریم چوتھی بار سرمائی اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر گئے

تحریر: عبیدالرحمٰن عباسی پاکستان کے لیے ایک بار پھر فخر اور خوشی کی خبر آئی ہے۔ گلگت بلتستان کے نلتر سے تعلق رکھنے والے الپائن اسکیئر محمد کریم نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے دبئی میں ہونے والی ایف آئی ایس (FIS) بین الاقوامی اسکی ریسز میں شاندار کارکردگی دکھاتے […]

تحریر: عبیدالرحمٰن عباسی


پاکستان کے لیے ایک بار پھر فخر اور خوشی کی خبر آئی ہے۔ گلگت بلتستان کے نلتر سے تعلق رکھنے والے الپائن اسکیئر محمد کریم نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے دبئی میں ہونے والی ایف آئی ایس (FIS) بین الاقوامی اسکی ریسز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سرمائی اولمپکس 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
یہ کارنامہ محمد کریم کو دنیا کا واحد کھلاڑی بناتا ہے جس نے مسلسل چوتھی مرتبہ سرمائی اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا ہے — یہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
عزم، محنت اور قومی غیرت کی داستان
محمد کریم کی کامیابی عزم و استقلال کی شاندار مثال ہے۔ وہ اب تک تین اولمپکس — سوچی (2014)، پیونگ چانگ (2018) اور بیجنگ (2022) — میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
اگرچہ وہ تاحال کوئی تمغہ حاصل نہیں کر سکے، مگر ان کا جذبہ اور استقامت پاکستان کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
انہوں نے محدود وسائل، ناکافی کوچنگ اور محدود حکومتی معاونت کے باوجود عالمی سطح پر جگہ بنائی۔ ان کی تازہ کامیابی پاکستان میں سرمائی کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک نئی امید ہے۔
فیڈریشن کی ناکامی ? نئے کھلاڑی کہاں ہیں؟:
محمد کریم کی اس تاریخی کامیابی کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ پاکستان اسکی فیڈریشن (SFP) گزشتہ کئی دہائیوں میں نئے کھلاڑی تیار کرنے میں کیوں ناکام رہی؟
کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ ہونے کے باوجود کوئی نیا نام سامنے نہیں آیا، خاص طور پر خواتین کھلاڑیوں کے میدان میں مکمل خاموشی ہے۔ ماضی میں افرا آمنہ اور خوشین نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی، مگر ان کے بعد کوئی خاتون کھلاڑی منظرِ عام پر نہیں آئی۔
“فیڈریشن کا عذر ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ غیر ملکی کوچز پاکستان آنے سے گریز کرتے ہیں، مگر اصل مسئلہ ناقص ترجیحات اور غیر مؤثر منصوبہ بندی ہے۔ بدقسمتی سے فنڈز غیر ضروری سرگرمیوں پر خرچ کیے جاتے ہیں، تربیت پر نہیں.
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ محمد کریم اولمپین عباس اور دیگر تجربہ کار ایتھلیٹس اپنے فارغ وقت میں نوجوان نسل کی کوچنگ کیوں نہیں کر رہے؟ان کے پاس بین الاقوامی تجربہ، تکنیکی علم، اور مہارت موجود ہے، مگر فیڈریشن نے کبھی کوئی منظم "مینٹرشپ پروگرام” یا "جونیئر اسکیئرز ورکشاپ” تشکیل نہیں دی۔اگر یہ قومی ہیروز اپنے تجربات نوجوانوں کو منتقل کریں تو پاکستان میں ایک نئی نسل تیار ہو سکتی ہے — مگر فیڈریشن کے غیر فعال ڈھانچے نے اس امکان کو بھی نظرانداز کر رکھا ہے۔ فیڈریشن میں پیشہ ور ماہرین کی اشد ضرورت:
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں کوئی بھی اسپورٹس فیڈریشن پیشہ ور اسٹاف کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔8
پاکستان اسکی فیڈریشن کو فوری طور پر درج ذیل ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہییں:

پروفیشنل اسکی کوچز (تکنیکی اور فزیکل ٹریننگ کے لیے)
اسپورٹس سائیکالوجسٹ (ذہنی مضبوطی اور دباؤ میں کارکردگی کے لیے)
جنرل فزیکل پریپریشن کوچز (طاقت و فٹنس بڑھانے کے لیے)
ٹیکنیکل اینالسٹ اور ایکوپمنٹ اسپیشلسٹ (ڈیٹا بیس تربیت اور جدید آلات کے استعمال کے لیے)
پاکستان میں اسپورٹس یونیورسٹی کا فقدان — کھیلوں کی ترقی میں رکاوٹ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج تک کوئی اسپورٹس یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی۔
جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں اسپورٹس یونیورسٹیاں کھیلوں کی سائنسی تربیت، غذائیت، نفسیات، اور کوچنگ کے جدید نصاب فراہم کر رہی ہیں۔
Beijing Sport University (چین)، Leeds Beckett University (برطانیہ) اور Australian College of Physical Education جیسے ادارے کھیلوں کو سائنسی بنیادوں پر فروغ دے رہے ہیں۔
پاکستان میں اگر ایسی یونیورسٹی موجود ہوتی تو آج ہمارے پاس صرف ایک محمد کریم نہیں، بلکہ درجنوں باصلاحیت ایتھلیٹس بین الاقوامی سطح پر موجود ہوتے۔
فائدے اگر پاکستان میں نیشنل اسپورٹس یونیورسٹی قائم ہو

  1. بین الاقوامی معیار کے کوچز اور تربیت یافتہ کھلاڑی تیار ہوں گے۔
  2. اسپورٹس سائنس، فزیوتھراپی، نیوٹریشن اور سائیکالوجی جیسے شعبے ترقی کریں گے۔
  3. خواتین کھلاڑیوں کے لیے محفوظ ماحول0 اور اسکالرشپس فراہم ہوں گی۔
  4. بچوں کے لیے لانگ ٹرم ٹریننگ سسٹم تشکیل دیا جا سکے گا۔
  5. فیڈریشنز کے لیے ریسرچ بیسڈ پالیسی گائیڈ لائنز تیار ہوں گی۔
  6. حکومت پاکستان کو اسلام آباد یا گلگت میں پہلی نیشنل اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا فوری منصوبہ بنانا چاہیے۔
  7. محمد کریم جیسے ایتھلیٹس کو "وزٹنگ کوچ” کے طور پر شامل کیا جائے۔
  8. نلتار، مالم جبہ اور ناران میں اسکی ٹریننگ سنٹرز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔
  9. خواتین اسکیئرز کے لیے علیحدہ تربیتی کیمپ قائم کیے جائیں۔
  10. فیڈریشن کے مالی معاملات کا آڈٹ اور احتساب کیا جائے۔
  11. نجی سیاحتی اداروں اور ٹورازم ڈپارٹمنٹ کو شراکت داری کے تحت ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز میں شامل کیا جائے۔
    خواب: پاکستان میں اسپورٹس یونیورسٹی اور عالمی معیار کی کوچنگ سسٹم کا قیام:
    محمد کریم کی چوتھی بار اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا ایک قومی سنگ میل ہے — مگر اس کامیابی کو صرف جشن تک محدود رکھنا بڑی غلطی ہوگی۔
    یہ لمحہ اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری، اور نئی نسل کے لیے سسٹم بنانے کا ہے۔
    اگر حکومت اور فیڈریشن نے اب بھی وقت پر اقدامات نہ کیے، تو آنے والے برسوں میں پاکستان کا نام صرف ایک محمد کریم تک محدود رہ جائے گا۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کھیلوں کو صرف شوق نہیں، بلکہ قومی سرمایہ سمجھ کر ان میں سنجیدہ سرمایہ کاری کرے۔ مڑید یہ کہ موجودہ فیڈریشن کی overhauling کی جائے اور انٹرنیشنل سکی فیڈریشن کے زریئے اس کا آڈٹ ھو۔ ارباب اختیار کو چاھئے کہ اس کے معملات کی چھان بین کے کہ اخر نیا ٹیلنٹ کب سامنے ائے گا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں