حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم میں ہائی کورٹس کے ججوں بارئے بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہےجبکہ حکومت نے پیپلز پارٹی کی تجاویز بھی مان لی ہیں ۔
اب نئی مجوزہ ترمیم میں سپریم جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار دینا شامل ہے کہ وہ کسی جج کی رضامندی کے بغیر ہائی کورٹس یا ان کے علاقائی بنچز کے درمیان ججوں کے تبادلے کر سکے ،تما ہائی کورٹس کے ججز کی مشترکہ سنیارٹی لسٹ تیار کی جائے گی اور سنیارٹی تاریخ تقرری سے شمار کی جائے گی۔
واضع رہے کہ ہائی کورٹس کے ججز کے تبادلے اور ورک اسٹیشن کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دیا جارہا ہے۔اور پہلے نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا۔
جبکہ دوسری جانب حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم پر پیپلز پارٹی کی تجاویز کو بھی مان لیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے آج وفاقی کا بینہ کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جس کی منظوری کے بعد نئی ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش کیا جا ئے گا اور سینیٹ منظوری کے بعد اس کو قومی اسمبلی سے منظور کرایا جا ئے گا۔

ہائی ججوں کی سنیارٹی تقرری اور تبادلوں کا اختیار
ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا مقصد عدالتی تبادلوں اور تقرریوں سے متعلق پرانے تنازعات طے کرنا ہے۔ یہ تنازعات حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے اور تقرریوں، خصوصاً موجودہ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی تعیناتی کے معاملے میں سامنے آئے تھے، جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، مجوزہ ترامیم کے تحت ملک کی تمام ہائی کورٹس کے ججوں کی سینیارٹی اُن کی تقرری کی تاریخ کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ سپریم جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ججز کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکے، اس کیلئے متعلقہ جج کی رضامندی درکار نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں
نئی آئینی عدالت، سات ججز ،کون ہو گا چیف جسٹس ؟ – urdureport.com
اہم سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ ترامیم حال ہی میں سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کی روشنی میں تجویز کی گئی ہیں جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کے تبادلوں کو درست قرار دیا گیا اور اس معاملے میں صدرِ مملکت اور سپریم جوڈیشل کمیشن کے آئینی اختیارات کی توثیق کی گئی۔

پیپلز پارٹی نے کن کن حکومتی تجاویز سے اتفاق نہیں کیا ؟
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 27ویں مجوزہ آئینی ترامیم کی کن شقوں پر اتفاق نہیں کیا ان کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی( سی ای سی) کے اجلاس میں آرٹیکل 160 کی شق تین اے ختم کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی نے صوبے کے شیئرز کم کرنے کی کسی شق سے اتفاق نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس میں پیپلز پارٹی نے صوبائی خودمختاری سے متعلق شیڈول 2 اور 3 ریورس کرنے سے متعلق تجویز سے بھی اتفاق نہیں کیا، تعلیم اور آبادی سبجیکٹ وفاق کے ماتحت کرنےکی شق سے بھی اتفاق نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 213 میں ترمیم اور آرٹیکل 63 (1) اور (c) میں ترمیم سے اتفاق نہیں کیا۔ یہ ترمیم دہری شہریت سے متعلق سول سرونٹس ملازمت یا دہری شہریت رکھنے سے متعلق تھی۔
ذرائع کے کا بتانا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ایگزیکٹو مجسٹریٹس اختیارات سے متعلق ترمیم سے بھی اتفاق نہیں کیا۔

