سال 2010 میں اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر ائیر لائن کی غلطی سے کریش ہو نے والے طیارے کے متاثرین کی جانب سے دائر کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت نے طویل عرصے کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ہلاک ہو نے والے اٹھ افراد کے ورثا کو اربوں روپے بطور معاوضہ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔
خاندانوں نے 15 سال تک قانونی جنگ لڑی جس کے بعد اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے حکم دیا کہ حادثہ ایئر بلیو کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا ۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ چو نکہ یہ حا دثہ ائیر لائن می غلطی کی وجہ سے ہوا اس لیے ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے آٹھ متاثرین کو مجموعی طور پر 5.4 ارب روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئیے
قومی ائیر لائن پی آئی اے عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب میں خرید لی – urdureport.com
پی آئی اے کو نئے مالکان کے ماتحت چلانے کا تاریخ کا اعلان کر دیا گیا – urdureport.com
2010 میں ایئر بلیو کی یہ پرواز اسلام آباد میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ طیارے کے مارگلہ ہلز میں گِر کر تباہ ہونے سے اس پر سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں گوہر رحمان کا نوجوان بیٹا اور قریبی عزیزہ بھی شامل تھیں۔
مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے ایئربلیو طیا رہ حادثے کو15سال بیت گئے، لیکن افسوس ناک واقعے میں اپنوں کے بچھڑ جانے کا غم آج بھی زندہ ہے.جنہوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا،ورثا کا کہنا تھا کہ بات پیسوں کی نہین انصاف کی ہے۔
بدقسمت طیا رے نے7بجکر41منٹ پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے اڑان بھری اور 9 بجکر 41منٹ پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر قائم کنٹرل ٹاور سے رابطہ منقطع ہوا۔
اور اسی دوران جہاز حادثے کا شکار ہوا، حادثے میں 6 کریو ممبرا ن سمیت 152مسافرجاں بحق ہوئے تھے.
حادثے کے تحقیقات کرنے والے سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ نے اپنی رپورٹ میں پائلٹ کو فلائنگ ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزیوں پر حادثے کا ذمہ دار قرار دیا.
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے خود کو غیر محفوظ صورتحال میں ڈالا اور خراب موسم میں جہاز کو نیچے اتارنے کیلئے سنگین خلاف ورزیوں اور فلائنگ ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا.
جبکہ کم اونچائی پر خطرناک علاقے میں طیارے کو غیر محفوظ حالت میں رکھا۔ کاکپٹ ریسوس مینجمنٹ اور پائلٹس سکلز کی ناکامی حادثے کی وجہ بنی

