کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے باہر ہفتے کے روز وکلاء نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف کنونشن کا انعقاد کیا ،وکلا برادری ایک بار پھر بڑی تعداد میں پرجوش دکھائی دی اور تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، جس کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ داخلی راستوں پر پولیس کمانڈوز اور اینٹی رائٹ فورس تعینات رہی۔
کنونشن کی تبدیلی اور بار کے اندر اختلافات
جنرل سیکریٹری سندھ ہائیکورٹ بار مرزا سرفراز کے مطابق کنونشن نیو بار روم میں منعقد کیا جانا تھا، تاہم ہائیکورٹ بار کے صدر اور بعض اراکین کی جانب سے تحفظات کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا۔
رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے اپنے آرڈر میں موقف اختیار کیا کہ تقاریر اور نعرے بازی عدالتی وقار کے منافی ہیں، مزید برآں ہفتے کے روز عدالت میں صرف انتظامی نوعیت کے امور نمٹائے جاتے ہیں۔
مرزا سرفراز کا کہنا تھا کہ وکلاء آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، اور اسی بنا پر کنونشن کو ہائیکورٹ کے باہر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک پرامن ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری وکلاء پر عائد نہیں ہوگی۔
پولیس اور وکلا میں ہاتھا پائی
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے تصدیق کی کہ ہائیکورٹ کے باہر وکلاء اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک پولیس افسر کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس پر رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا جائے گا اور معاملہ بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔
نیو بار روم میں ہڑتال اور بجلی معطل
کنونشن کے دوران نیو بار روم کی بجلی بند ہونے پر وکلاء باہر نکل آئے اور احتجاج جاری رکھا۔
صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے اعلان کیا کہ 24 نومبر کو سندھ بھر کی عدالتوں میں مکمل ہڑتال ہوگی، جبکہ آئندہ حکمتِ عملی 13 دسمبر کے بعد پیش کی جائے گی۔
پس منظر اور شرکاء کی آمد
ذرائع کے مطابق 27ویں ترمیم کے خلاف کنونشن کا اعلان مرزا سرفراز نے کیا تھا، تاہم بار کے صدر نے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کیا۔ عدالتی تقدس کے پیشِ نظر رجسٹرار نے پروگرام کی منظوری نہیں دی، جس کے بعد وکلاء بڑی تعداد میں ہائیکورٹ کے باہر جمع ہوئے۔
سندھ کے مختلف اضلاع سے بھی وکلاء نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئیے
27ویں آئینی ترمیم پر سخت ردعمل سپریم کورٹ کے ججوں کا اجتماعی استعفوں پر غور – urdureport.com
اختتام اور آنے والے انتخابات کا حوالہ
شرکاء کی تعداد بڑھنے پر وکلاء نے ہائیکورٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں روکا اور دونوں جانب سے دھکے بازی اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔
نیو بار روم میں داخل ہونے پر دوبارہ بجلی منقطع کر دی گئی، اور کنونشن تناؤ کی صورتحال میں اختتام پذیر ہوا۔
وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آنے والے بار انتخابات فیصلہ کریں گے کہ وکلاء کس مؤقف کی حمایت کریں گے۔

