• Home  
  • 27 ویں آئینی ترمیم ،آئینی عدالت،چیف آف ڈیفنس کا عہدہ قائم
- ٹاپ سٹوری

27 ویں آئینی ترمیم ،آئینی عدالت،چیف آف ڈیفنس کا عہدہ قائم

وفاقی حکومت کی جانب سے آئین میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں وفاقی آئینی عدالت‘ کے قیام ،آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔آئینی۔ترمیم مسودہ وفاقی کابینہ سے منظورہ کے بعد سینیٹ میں پیش کر دیا گیا مسودہ کے مطابق فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے، […]

وفاقی حکومت کی جانب سے آئین میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں وفاقی آئینی عدالت‘ کے قیام ،آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔آئینی۔ترمیم

مسودہ وفاقی کابینہ سے منظورہ کے بعد سینیٹ میں پیش کر دیا گیا

مسودہ کے مطابق فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے، آرمی چیف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا

آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیمی مسودے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف جو چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے اور نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔

مسودہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی، سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے۔

آئین کا آرٹیکل 184 ختم کردیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا، آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں، وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مسودہ کے مطابق سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی، وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز دی گئی ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔ 

27ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے، تقرری میں وزیراعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا۔

پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا، آئین کے آرٹیکل 42، 63A، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

مسودہ کے مطابق 27ویں ترمیم سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہوگی۔

ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27ویں ترمیم پر شدید تحفظات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں