وفاقی حکومت اس وقت 28ویں آئینی ترمیم لا نے کا فیصلہ کر چکی ہے جس کی تصدیق وزیرمملکت قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک نے بھی کی ہے جس میں سب سے متنازع مجوزہ ترمیم ووٹ کی عمر سے متعلق بتائی جا رہی ہے کہ 25 سال کے نوجوان کو ووٹ کا حق دینے پر غور ہو رہا ہے۔
اگرحکومت اس شق کو شامل کر تی ہے تو اس سے یقیناً کروڑوں نوجوان ووٹ کے حق سے محروم ہو جایں گے۔

علاوہ ازیں نئی مجو زہ ترمیم میں ذرائع کا کہنا ہے کہ آئِنی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 کرنے کی تجویز ہے،28ویں ترمیم میں ممکنہ طور پر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کرنے، اختیارات اور وسائل کی منتقلی، اور لوکل باڈیز کے مالیاتی اور انتظامی اختیارات کو آئینی تحفظ دینے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
صوبائی حکومتوں کو مالی وسائل لوکل حکومتوں تک پہنچانے کے لیے پرووینشل فنانس کمیشن کے قیام اور اس کے فارمولے کو آئینی تحفظ دینے پر غور کیا جا رہا ہے، بالکل اس طرح جیسے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت وفاقی حکومت صوبوں کو ریونیو فراہم کرتی ہے
28ویں ترمیم کا فوکس الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ کی مدت، دوہری شہریت اور نئے صوبوں کی تشکیل پر بھی ہوگا۔،دعوے کے مطابق، ”ان نئے صوبوں میں اسلام آباد، مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، کراچی، سندھ، مہران، بلوچستان، گوادر، خیبر اور ہزاره کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں۔“
یہ بھی پڑھئیے
27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں،جو قوتیں لائیں ان کی عزت میں اضافہ نہیں ہوا – urdureport.com
27ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء تحریک کا کراچی سے زبردست آغاز،پولیس سے جھڑپیں – urdureport.com
وزیرمملکت قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ 28ویں ترمیم اپریل سے پہلے آئے گی اس کا براہ راست تعلق بجٹ سے ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور آئینی ترمیم متوقع ہے جس میں بلدیاتی حکومتوں سے متعلق تبدیلیاں آئینی ترمیم میں شامل کی جائیں گی جس کا مطالبہ ایم کیو ایم پاکستان کرتی آئی ہے۔

