ایس پی شہر بانو نے اپنے خلاف زیر گردش خبروں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خاموشی کو بعض افراد نے غلط فہمی کے تحت مجرمانہ یا ملوث ہونے کے مترادف سمجھا حالانکہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔
انہوں نے وضاحت دی کہ جرم کے اعتراف اور چیک معاملے کے ہمارے پاس آنے سے پہلے ہی دیے گئے تھے۔ وہ دونوں فریقین سے صرف ایک مرتبہ 9 مئی 2025 کو اپنے دفتر میں ملیں۔ اس ملاقات کے بعد کسی بھی قسم کے رابطے میں نہیں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیک بغیر کسی پولیس مداخلت کے 1 مئی 2025 کو دیے گئے، معافی کا خط پولیس کے علم میں آنے سے پہلے کلینک کے لیٹر ہیڈ پر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مالی لین دین کا عمل بعد میں ہوا اور شہر بانو نقوی کسی بھی مالی لین دین میں ملوث نہیں تھیں۔ شکایت بھی صرف ایک مرتبہ سنی گئی جس میں دونوں فریقین نے ذاتی طور پر کیے گئے معاہدے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور صفحات سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو کلک بیٹ کے لیے استعمال نہ کریں اور غلط معلومات نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا دعا کریں، محبت کریں، اور امید پھیلائیں جھوٹ نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شعور عطا فرمائے کہ غلط معلومات دینا گناہ ہے۔ آخر میں ایس پی نے کہا کہ شکر گزار رہیں کہ میں آپ سب کے خلاف عدالت نہیں جا رہی۔
ڈاکٹر زین العابدین کے مطابق یہ واقعہ اپریل میں پیش آیا اس وقت شہر بانو نقوی ڈی ایچ اے میں اے ایس پی کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مریضہ میرے کلینک پر آئی اور سرجری کرانے کے بعد چلی گئی، لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد وہ واپس کلینک پر آئی اور بتایا کہ اس کو ٹھیک نظر نہیں آرہا، لہٰذا اسے آپریشن کے پیسے واپس کیے جائیں۔
آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا’میرے ساتھ خاتون کا بحث مباحثہ بھی ہوا، لیکن جب مجھے زدوکوب کیا گیا تو میں نے پیسے نے واپس کر دیے۔ خاتون مریضہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے سرجری کے دیے تھے لیکن مجھ سے 4 لاکھ روپے وصول کیے۔‘
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ پھر مجھے چند دنوں بعد اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی کی طرف سے کال آتی ہے کہ آپ کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب میں اے ایس پی شہر بانو کے سامنے پیش ہوا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے مریضہ کا آپریشن غلط کیا ہے اسے پیسے واپس کیے جائیں۔ لیکن مریضہ تو پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے 4 لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی۔
’مجھے مریضہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اب علاج لندن سے کروانا چاہتی ہیں، اس کا جو خرچ آئے گا وہ ادا کیا جائے۔ مجھے ڈرایا دھمکایا گیا جس پر میں نے 10 لاکھ روپے کے 3 چیک مریضہ کے حوالے کردیے۔
‘انہوں نے کہاکہ ان 3 میں سے 2 چیک کیش ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 2 چیک رکوانے کے لیے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹر علی زین العابدین کے مطابق انہیں پولیس اسٹیشن بلوانے کے لیے ایس ایچ او خرم کو کلینک پر بھی بھیجا گیا تھا۔ ’ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے اٹھا کر حوالات میں بند کردیا تھا۔‘آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین کے مطابق مریضہ اب تک ان سے 14 لاکھ روپے لے چکی ہے، جس کی وجہ خاتون کے پولیس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔


