اتوار 27 جولائی 2026
ایران (Iran) نے بحیرۂ قزوین (Caspian Sea) میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ (United Nations) کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران (Tehran) نے اس واقعے پر یوکرین (Ukraine) کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کرکے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔
عباس عراقچی کا الزام
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araghchi) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں الزام لگایا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی (Volodymyr Zelenskyy) کی ہدایت پر ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرا*ئیل (Isr*ael) کے ایما پر کی گئی تاکہ یورپی ممالک کو جنگ میں مزید ملوث کیا جا سکے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے یورپی یونین (European Union) کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس (Kaja Kallas) اور روس (Russia) کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف (Sergey Lavrov) سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
یوکرین ناظم الامور طلب
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اتوار کی صبح یوریشیا امور کے ڈائریکٹر جنرل اور معاون وزیر خارجہ منوچہر مرادی (Manouchehr Moradi) نے تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے اس حملے کو ایک مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں، خصوصاً ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی، کی خلاف ورزی ہے۔
مذید خبریں
ٹرمپ نے ایران پر بڑے حملے کا فیصلہ مؤخر کر دیا، پاکستان سفارتی کوششوں تیز – urdureport.com
اینڈی برنہم کون ؟ صحافت سے سیاست اور برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ تک کا سفر – urdureport.com
منوچہر مرادی نے کہا کہ یوکرینی حکومت اس واقعے کی مکمل ذمہ دار ہے اور اسے حملے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران (Islamic Republic of Iran) اپنی قومی سلامتی، مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس حملے کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔
یوکرین کا موقف
دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی (Volodymyr Zelenskyy) نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی افواج نے ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہو رہا تھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے یوکرین کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایران کے خلاف یوکرین کے غیر دانشمندانہ اور معاندانہ طرزِ عمل کا تسلسل ہے۔ وزارت کے مطابق یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔


