پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
اسلام آباد پولیس نے ہسپتال جانے والے کئی راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ ہسپتال کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں میڈیا نمائندے بھی ہسپتال کے باہر موجود ہیں۔
Imran Khan shifted to Shifa Hospital pic.twitter.com/gRmbS51zjm
— Urdu Report (@UrduReportpk) August 20, 2026
سپریم کورٹ کا ہسپتال منتقلی کا حکم
سپریم کورٹ نے دو روز قبل حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی علاج کے لیے جمعرات کی نصف شب سے قبل شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
پی ٹی آئی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت مقررہ وقت تک عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کرتی تو وہ دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
پی ٹی آئی کی قانونی کارروائی کی وارننگ
پی ٹی آئی رہنما ذوالفقار بخاری نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کو جمعرات کی رات 11 بج کر 59 منٹ تک شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو پارٹی جمعے کو سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں زلفی بخاری نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو دو دن کے اندر ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم نظرانداز کیے جانے کی صورت میں سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے درخواست بھی تیار کر رکھی ہے۔
حکومت کی نظرثانی درخواست واپس
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومت کی نظرثانی درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی ہے۔
حکومت نے بدھ کو یہ درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت کے 18 اگست کے عبوری حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس حکم کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
حکومت دوبارہ درخواست دائر کرے گی
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اعتراضات دور کرنے کے بعد نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کرے گی۔
یہ درخواست اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کا حکم اس کے اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے۔
حکومت نے عدالت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔
صحت اور بینائی سے متعلق خدشات
سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے اہل خانہ اور حامیوں کی جانب سے ان کی صحت اور بینائی کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری مطالبات کے بعد سامنے آیا۔
73 سالہ سابق وزیراعظم اگست 2023 سے قید ہیں۔ رواں سال ڈاکٹروں نے ان کی دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق بیماری کی تشخیص کی تھی۔
ان کے وکلا نے خبردار کیا ہے کہ مناسب طبی علاج نہ ملنے کی صورت میں یہ بیماری ان کی بینائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کا منتخب ڈاکٹروں سے علاج کا مطالبہ
پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بدھ کو اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرے گی۔
رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نظرثانی درخواست دائر کرنے سے سپریم کورٹ کا موجودہ حکم معطل یا تبدیل نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی طور پر عدالتی حکم پر عمل درآمد کی پابند ہے اور خبردار کیا کہ حکم پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
نوٹ: آپ نے "موجودہ لنکس” شامل کرنے کو کہا ہے، لیکن آپ کے فراہم کردہ متن میں اصل لنکس موجود نہیں ہیں۔ اگر آپ اصل خبر کا لنک بھیج دیں تو میں اسی ترجمے میں اصل خبر، متعلقہ عدالتی خبر اور دیگر موجودہ حوالہ جات کے قابلِ کلک لنکس شامل کر دوں گا۔


