• Home  
  • غیر ملکی کرنسی میں 34 کروڑ پنشن لینے والے ریٹائرڈ افسران کے نام سامنے آگئے
- پاکستان

غیر ملکی کرنسی میں 34 کروڑ پنشن لینے والے ریٹائرڈ افسران کے نام سامنے آگئے

اسلام آباد: وزارت خارجہ کی سرکاری دستاویزات کے مطابق بیرون ملک مقیم متعدد ریٹائرڈ پاکستانی افسران اور ان کے اہل خانہ کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران ان پنشنرز کو مجموعی طور پر تقریباً 34 کروڑ پاکستانی روپے کے مساوی رقم ادا کیے جانے کا […]

dollars

اسلام آباد: وزارت خارجہ کی سرکاری دستاویزات کے مطابق بیرون ملک مقیم متعدد ریٹائرڈ پاکستانی افسران اور ان کے اہل خانہ کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران ان پنشنرز کو مجموعی طور پر تقریباً 34 کروڑ پاکستانی روپے کے مساوی رقم ادا کیے جانے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔

بیرون ملک مقیم ریٹائرڈ افسران کو پنشن کی ادائیگی

دستاویزات کے مطابق غیر ملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والے تمام متعلقہ ریٹائرڈ افسران یا ان کے خاندان بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان میں امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک میں رہنے والے پنشنرز شامل ہیں۔

اسلام آباد میں تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری کے مطابق سفارت خانوں اور سفارتی مشنز کے ذریعے ان افراد کو پنشن کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پنشن کی ادائیگی مختلف ممالک میں غیر ملکی کرنسی میں کی گئی، جس کی پاکستانی روپے میں قدر زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق تبدیل ہوتی رہی۔

واشنگٹن میں 11 پنشنرز کو 13.5 کروڑ روپے ادا

وزارت خارجہ کے ریکارڈ میں سب سے بڑی ادائیگی واشنگٹن میں مقیم پنشنرز کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران واشنگٹن میں مقیم 11 افسران کو تقریباً 13.5 کروڑ روپے کے مساوی پنشن ادا کی گئی۔

نیویارک میں 10 افسران کو 10 کروڑ روپے

دستاویزات کے مطابق نیویارک میں مقیم 10 ریٹائرڈ افسران کو تقریباً 10 کروڑ روپے کے مساوی پنشن ادا کی گئی۔ ان ادائیگیوں کا انتظام بھی پاکستانی سفارتی مشن کے ذریعے کیا گیا۔

آسٹریلیا میں 4 پنشنرز کو 2.5 کروڑ روپے

سرکاری ریکارڈ کے مطابق آسٹریلیا میں مقیم 4 افسران کو گزشتہ پانچ برس میں تقریباً 2.5 کروڑ روپے کے مساوی پنشن ادا کی گئی۔

دیگر ممالک میں بھی پنشن کی ادائیگیاں

دستاویزات میں دیگر ممالک میں مقیم 8 پنشنرز کا بھی ذکر ہے جنہیں مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے کے مساوی پنشن ادا کی گئی۔

یہ افراد امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔

بیشتر افسران کئی دہائیاں پہلے ریٹائر ہوئے

دستاویزات کے مطابق پنشن وصول کرنے والے متعدد افسران تقریباً 20 یا 30 سال قبل سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔

اس کے باوجود بیرون ملک رہائش کے دوران انہیں پنشن کی ادائیگیاں جاری ہیں۔ تاہم دستیاب ریکارڈ سے ہر فرد کی موجودہ اہلیت اور پنشن کی قانونی شرائط کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہوتیں۔

سابق سفیر اللہ خان کے خاندان کا نام بھی شامل

غیر ملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والوں میں سابق سفیر اللہ خان کے خاندان کا نام بھی شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق ان کے خاندان کو بیرون ملک پنشن کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

سابق سائفر افسران کے خاندان بھی پنشن وصول کر رہے ہیں

سرکاری ریکارڈ میں سابق سائفر افسران نجمہ عابدہ اور قریشہ بیگم کے خاندانوں کے نام بھی شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق دونوں خاندان غیر ملکی کرنسی میں پنشن وصول کر رہے ہیں۔

اوٹاوا میں نسیمہ یونس کے خاندان کو پنشن

دستاویزات کے مطابق نسیمہ یونس کے خاندان کو اوٹاوا میں پنشن ادا کی جا رہی ہے۔

پاکستانی سفارتی مشن کے ذریعے بیرون ملک مقیم پنشنرز کو ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔

شمیم خالد اور اللہ رحیم بھی فہرست میں شامل

سابق ڈی جی محترمہ شمیم خالد بھی واشنگٹن میں غیر ملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔

اسی طرح سابق ڈپٹی اے جی پی اللہ رحیم نیویارک میں پنشن وصول کر رہے ہیں۔

دیگر پنشن وصول کرنے والوں کے نام

دستاویزات میں دیگر افراد میں سلمان نور، محترمہ لیاقت، اعجاز احمد، محمد رمضان، شیرین رحمت اللہ اور محترمہ عینی شفیق کے نام بھی شامل ہیں۔

پانچ برس میں 34 کروڑ روپے کی ادائیگی

وزارت خارجہ سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران بیرون ملک مقیم ان پنشنرز کو مجموعی طور پر تقریباً 34 کروڑ پاکستانی روپے کے مساوی رقم ادا کی گئی۔

البتہ مختلف اوقات میں زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کے باعث غیر ملکی کرنسی میں ادا کی گئی اصل رقم کی پاکستانی روپے میں قدر مختلف ہوسکتی ہے۔

پنشن ادائیگیوں کے قواعد پر سوالات

سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ بیرون ملک مستقل طور پر مقیم سابق سرکاری افسران اور ان کے خاندانوں کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کے لیے کون سے قواعد و ضوابط نافذ ہیں اور ان ادائیگیوں کی موجودہ قانونی و انتظامی بنیاد کیا ہے۔

دستیاب دستاویزات ادائیگیوں کا ریکارڈ تو ظاہر کرتی ہیں، تاہم کسی فرد کی پنشن کو غیرقانونی قرار دینے کے لیے اس کی اہلیت، متعلقہ قواعد اور پنشن کی منظوری کے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

فی الحال دستاویزات سے اتنا واضح ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں بیرون ملک مقیم متعدد ریٹائرڈ افسران اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگیاں کی جاتی رہی ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!