اردو رپورٹ ڈیسک
فیک ویڈیو کیس میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے لاہور کی ضلع کچہری پہنچ گئیں، تاہم کیس کی مرکزی ملزمہ فلک جاوید عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔
عظمیٰ بخاری نے جج نعیم وٹو کے روبرو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس مقدمے میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کی ایک جعلی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کے باعث جس کرب سے گزری ہیں، اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتیں۔
عدالت کے اہم ریمارکس
سماعت کے دوران جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے لیے ایک عورت کا احترام بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے مقدمات سے کس طرح نمٹا جاتا ہے۔
جج نے یہ بھی کہا کہ کیس میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں ہوئی، جبکہ عدلیہ کو اس معاملے پر تنقید بھی برداشت کرنا پڑی ہے۔
وکیل سے تلخ کلامی
دورانِ سماعت فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ عظمیٰ بخاری نے وکیل سے کہا، ’’آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں، آواز نیچی کرکے بات کریں۔‘‘
فلک جاوید کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر جج نے جیل حکام کو انہیں 20 منٹ کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
گرفتاری وارنٹس کی ٹوئٹ پر وضاحت
سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ یوٹیوبر سے پوچھا جائے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے تھے۔
عظمیٰ بخاری نے کمرہ عدالت میں موجود یوٹیوبر کی جانب اشارہ بھی کیا۔ اس پر یوٹیوبر نے عدالت میں ان سے معذرت کرلی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے اور کوئی عام سول کیس نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سکیورٹی خدشات بھی لاحق ہیں، اسی لیے انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ فلک جاوید کے والدین کا احترام کرتی ہیں، تاہم انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ ان کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسی طرح معاملات چلنے ہیں تو عدالتوں کو بند کردینا چاہیے۔ ان کے بقول اگر ایک وزیر کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے لوگ ان کے ساتھ عدالت آنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے انہیں منع کردیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ دونوں جانب کے لوگ آمنے سامنے آئیں اور کوئی بدمزگی پیدا ہو۔


