اردو رپورٹ ڈیسک
برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن اور سابق وزیر زیک گولڈسمتھ نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ عمران خان کے معاملے پر حکومتِ پاکستان سے بات کریں۔
زیک گولڈسمتھ نے 2 ستمبر 2026 کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل سے عمران خان کی جانب سے حکومتِ پاکستان سے نمائندگی کرنے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے اپنی اپیل میں دولتِ مشترکہ کے منشور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منشور رکن ممالک کو جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اچھی طرزِ حکمرانی اور اختیارات کی علیحدگی کے اصولوں کا پابند بناتا ہے۔
زیک گولڈسمتھ کے مطابق، "ان اصولوں کی کوئی معنویت اسی وقت ہے جب دولتِ مشترکہ کسی رکن ملک میں ان اصولوں پر شدید دباؤ آنے کی صورت میں ان کے دفاع کے لیے تیار ہو۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کا اصل خط بھی اگلی پوسٹ میں موجود ہے جبکہ دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے انہیں جواب موصول ہو چکا ہے۔
I appealed to the Secretary General of the Commonwealth to make representations to the government of Pakistan on behalf of @ImranKhanPTI .
I said “The Commonwealth Charter commits its members to democracy, human rights, the rule of law, good
governance and the separation of… pic.twitter.com/oWGS2jetu2— Zac Goldsmith (@ZacGoldsmith) September 2, 2026
زیک گولڈسمتھ کون ہیں؟
زیک گولڈسمتھ لارڈ گولڈسمتھ آف رچمنڈ پارک کے نام سے برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن ہیں۔ وہ اس سے قبل رچمنڈ پارک سے ہاؤس آف کامنز کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
وہ برطانوی حکومت میں دولتِ مشترکہ سے متعلق وزیر کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔ اسی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجی گئی اپنی اپیل پر موصول ہونے والے جواب پر تنقید کی ہے۔
پاکستان اور عمران خان کے معاملے پر زیک گولڈسمتھ اس سے قبل بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈسمتھ، زیک گولڈسمتھ کی بہن ہیں۔
دولتِ مشترکہ کا زیک گولڈسمتھ کو جواب
دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل شرلی بوٹچوے کی جانب سے زیک گولڈسمتھ کو بھیجے گئے خط میں ان کی 22 اگست کی ای میل کا حوالہ دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دولتِ مشترکہ سیکریٹریٹ رکن ممالک میں طرزِ حکمرانی، جمہوری عمل، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق رپورٹس اور موصول ہونے والی خط و کتابت کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔
جواب میں کہا گیا کہ زیک گولڈسمتھ کے مراسلے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، دولتِ مشترکہ سیکریٹریٹ ان سے آگاہ ہے۔
خط کے مطابق دولتِ مشترکہ سیکریٹریٹ، دولتِ مشترکہ کے منشور میں درج اصولوں اور اقدار کی حمایت میں اپنے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
سیکریٹری جنرل کے جواب میں مزید کہا گیا کہ دولتِ مشترکہ سیکریٹریٹ پاکستان سمیت تمام رکن ممالک کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں اور اصولوں کو فروغ دیا اور برقرار رکھا جا سکے۔
زیک گولڈسمتھ کا جواب پر سخت ردعمل
دولتِ مشترکہ کا جواب شیئر کرتے ہوئے زیک گولڈسمتھ نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کے سابق وزیر کی حیثیت سے وہ اس جواب کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور ان کے بقول یہ دراصل اس بات کو کہنے کا سفارتی انداز ہے کہ "ہم بالکل کچھ نہیں کر رہے۔”
زیک گولڈسمتھ نے مزید کہا کہ "سچ کہوں تو یہ ایک شرمناک بات ہے۔”
دولتِ مشترکہ کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں عمران خان کی رہائی یا ان کے معاملے میں کسی مخصوص اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور اچھی طرزِ حکمرانی سے متعلق عمومی اصولوں اور پاکستان سمیت رکن ممالک کے ساتھ تعمیری رابطے جاری رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔


