اردو رپورٹ ڈیسک
کالام کے تاریخی شاہی گراؤنڈ پر مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے معاملے پر ایک بار پھر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے جہاں پر مقامی آبادی سیکشن فور کے نفاز کے خلاف سراپا احتجاج ہے جس پر مقامی آبادی کے 201 افراد کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جا رہی ہے جن میں سے پولیس نے گرفتاریاں بھی شروع کی ہیں۔ تاہم اس کے خلاف مقامی افراد کا جرگہ بحِ منعقد ہوا۔
مقامی آبادی کے افراد نے اردو رپورٹ کو بتایا کہ انتظامیہ نے رات گئے شاہی گراونڈ کالام میں تعمیرات کا کام شروع کیا تو مقامی افراد موقع پر آگئے جس سے انتظامیہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔
اصل تنازع یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ اس وقت شاہی گراونڈ کی زمین تقریباً پانچ سے چھ کروڑ روپے کنال کے درمیان ہے لیکن حکومت سیکشن فور کے تحت 52 لاکھ روپے دے رہی ہے اور اس وقت ساڑھے چار پانچ ہزار افراد نے حکومت سے رقم وصول نہیں کی۔
جبکہ کچھ مقامی افراد کا خیال ہے کہ یہ زمین ان کے بچوں کا پلے گراونڈ ہے اس کو وہ حکومت کے سپرد نہیں کریں گے۔اس بارئے مقامی افراد اور عمائدین علاقہ کا ایک جرگہ بھی منعقد ہوا جس میں متلف تحاویز پر غور کیا گیا۔
صوبائی حکومت کی کاروائی
سوات کے کالام میں شاہی گراؤنڈ کی زمین پر قبضہ لینے کے دوران انتظامیہ اور مقامی افراد کے درمیان مبینہ جھڑپ میں اسسٹنٹ کمشنر بحرین لقمان خان کے زخمی ہونے بارئے اطلاعات بھی ہیںے۔ انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم تقریباً 300 کنال اراضی کا قبضہ لینے کے لیے موقع پر پہنچی تھی، جس پر مقامی افراد نے مزاحمت کی اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
اہم پولیس نے انہیں اور اے اے سی کالام کو بحفاظت موقع سے نکال لیا۔ آر پی او مالاکنڈ فدا حسن نے پولیس کی جانب سے انتظامی افسران کو اکیلا چھوڑنے کی تردید کی ہے۔
ڈی پی او اپر سوات مشتاق احمد خان کے مطابق واقعے پر 37 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جن میں سے 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ تقریباً 300 کنال زمین کے حصول کے لیے حکومت مقامی مالکان کو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے چار سال قبل ادا کرچکی ہے تاہم مقامی افراد کے مطابق ایک قبیلے کے چار سے پانچ ہزار افراد نے ابھی تک رقم وصول نہیں کی ۔
ستمبر 2026 کے اوائل میں اسسٹنٹ کمشنر بحرین، سوات، لقمان خان پولیس نفری کے ہمراہ رات گئے شاہی گراؤنڈ پہنچے اور وہاں کام شروع کروانے کی کوشش کی، جس کے بعد مقامی آبادی میں شدید تشویش اور احتجاج سامنے آیا۔
مقامی افراد کا موقف
مقامی جرگوں اور کمیٹیوں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے شاہی گراؤنڈ کی زمین حاصل کرنے سے قبل عوام اور مقامی قوم کو اعتماد میں نہیں لیا اور زمین کی قیمت بھی طے نہیں کی گئی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے خلاف نہیں، تاہم شاہی گراؤنڈ کی تاریخی اور سیاحتی اہمیت کے باعث اس کے تحفظ اور متبادل زمین پر منصوبہ تعمیر کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ سے لے کر وزیراعلیٰ کی سطح تک مذاکرات میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ زمین نجی مذاکرات کے ذریعے موجودہ مارکیٹ ریٹ پر حاصل کی جائے گی۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ان معاملات کو طے کیے بغیر اچانک رات کے وقت پولیس نفری کے ساتھ گراؤنڈ پہنچنے سے اعتماد کا بحران مزید بڑھ گیا۔
زمین کی ملکیت اور تنازع: بین الاقوامی اسٹیڈیم کے لیے مختص 341 کنال اراضی تین مقامی قبائل دیر خیل، نیلور خیل اور جعفر خیل کی مشترکہ ملکیت ہے۔ زمین کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر بحرین کے دفتر کے ذریعے دیر خیل اور نیلور خیل قبائل کو معاوضے کی رقم ادا کی جاچکی ہے، تاہم جعفر خیل قبیلہ تاحال زمین دینے کی مخالفت اور مزاحمت کر رہا ہے۔
شاہی گراؤنڈ پر سیکشن 4 کا نفاذ
کالام میں انٹرنیشنل معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ کئی سال پرانا ہے۔ منصوبے کے لیے شاہی گراؤنڈ کی زمین حاصل کرنے کی غرض سے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیکشن 4 کے نفاذ کی کارروائی بھی کی گئی تھی۔
مقامی لوگوں کا مؤقف رہا ہے کہ شاہی گراؤنڈ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں کا مقام نہیں بلکہ کالام کی تاریخی اور سیاحتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اسٹیڈیم کے لیے متبادل زمین استعمال کر سکتی ہے اور شاہی گراؤنڈ کو اس کی موجودہ حالت میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔
کالام کرکٹ اسٹیڈیم کا منصوبہ کب بنا؟
کالام کرکٹ اسٹیڈیم کا منصوبہ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا تھا۔ 31 مارچ 2021 کو صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے ریکارڈ میں کالام، ضلع سوات میں کرکٹ اسٹیڈیم بمعہ متعلقہ سہولیات کا منصوبہ درج کیا گیا تھا۔
منصوبے کی لاگت مختلف مراحل میں تبدیل ہوتی رہی۔ ایک ترقیاتی جائزے میں اس کی مجموعی لاگت تقریباً 2 ارب 467.18 ملین روپے رپورٹ ہوئی تھی، جبکہ زمین کی خریداری اور دیگر اخراجات بھی منصوبے کا اہم حصہ تھے۔
2022 میں تعمیر کا ٹھیکہ دینے کا اعلان
25 مئی 2022 کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ کالام میں انٹرنیشنل معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا جا چکا ہے اور جلد رسمی گراؤنڈ بریکنگ کی جائے گی۔
اجلاس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی، ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان اور ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خالد خان سمیت دیگر حکام شریک تھے۔
اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اسٹیڈیم 341 کنال اراضی پر تعمیر کیا جائے گا، جس کی تخمینی لاگت 2 ارب روپے ہوگی اور منصوبہ دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ اسٹیڈیم میں 6 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش بتائی گئی تھی۔
محمود خان نے اس وقت کہا تھا کہ کالام میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم کے قیام سے پاکستان میں کرکٹ کے شیڈول کو وسعت دینے، مقامی سیاحت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے اور صوبائی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق منصوبے سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
محمود خان نے سنگ بنیاد رکھا
29 مئی 2022 کو اس وقت کے وزیراعلیٰ محمود خان نے کالام میں شاہی کرکٹ اسٹیڈیم کی گراؤنڈ بریکنگ کی۔ اس موقع پر منصوبے کی لاگت تقریباً 2.8 ارب روپے بتائی گئی تھی۔ منصوبے کو علاقے میں کھیلوں اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔
زمین کی خریداری پر اربوں روپے کا معاملہ
بعد کی رپورٹس میں کالام کرکٹ گراؤنڈ کے لیے زمین کی خریداری پر بھی بڑی رقم کا ذکر سامنے آیا۔ 2023 کی ایک رپورٹ میں خیبر پختونخوا اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا کہ گراؤنڈ کی زمین خریدی جا چکی تھی اور اس پر تقریباً 2.1 ارب روپے خرچ آنے کا تخمینہ تھا۔
دوسری جانب منصوبے کے بعض تعمیراتی پیکیجز کی لاگت اس سے مختلف رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین، تعمیر اور مجموعی اسکیم کے اخراجات الگ الگ مدات میں شامل رہے۔
2024 میں بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا تھا
مئی 2024 میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کالام کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں گراؤنڈ بریکنگ کے باوجود منصوبہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکا تھا۔
سرکاری بجٹ ریکارڈ میں بھی منصوبہ برقرار رہا اور اسے اے ڈی پی کوڈ 200167 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
موجودہ تنازع کا بنیادی سوال
حالیہ صورتحال میں اصل سوال اب صرف اسٹیڈیم کی تعمیر نہیں بلکہ شاہی گراؤنڈ کی زمین کے حصول، مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے، زمین کی قیمت اور متبادل مقام سے متعلق ہے۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبے کے خلاف نہیں اور اسٹیڈیم کے لیے متبادل زمین دینے پر بھی آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔ ان کے مطابق شاہی گراؤنڈ کو اس کی تاریخی اور سیاحتی اہمیت کے باعث محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب منصوبہ کئی برس سے سرکاری ترقیاتی ریکارڈ کا حصہ ہے اور اس پر مختلف ادوار میں پیش رفت کے اعلانات بھی ہو چکے ہیں اس وقت معلوم ہوا ہے کہ مقامی ابادی کے 201 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کاروائی کرنا کا بھی ارادہ کیا گیا ہے۔
اب اس تنازع کا حل مقامی جرگوں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات اور زمین سے متعلق معاملات کے واضح تصفیے سے جڑا ہوا ہے۔


