• Home  
  • سانحہ گل پلازا: پولیس چالان میں مارکیٹ ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار
- پاکستان

سانحہ گل پلازا: پولیس چالان میں مارکیٹ ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار

اردو رپورٹ ڈیسک کراچی: گل پلازا آتشزدگی کیس میں پولیس نے چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے، جس میں مارکیٹ ایسوسی ایشن کو سانحے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ چالان میں 87 گواہان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ گل پلازا میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے […]

اردو رپورٹ ڈیسک

کراچی: گل پلازا آتشزدگی کیس میں پولیس نے چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے، جس میں مارکیٹ ایسوسی ایشن کو سانحے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ چالان میں 87 گواہان کو شامل کیا گیا ہے جبکہ گل پلازا میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت مختلف شواہد حاصل کیے گئے۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کے خلاف کوئی غفلت ثابت نہیں ہوئی۔سانحہ گل پلازہ میں جب آگ لحی تو عمارت میں 1,200 سے زائد دکانیں تھیں، جبکہ واقعے میں 70 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

فارنزک رپورٹ میں دھماکا خیز مواد نہیں ملا

پولیس چالان کے مطابق فارنزک رپورٹ میں کسی قسم کا دھماکا خیز مواد نہیں ملا، جبکہ کسی قابلِ اشتعال مائع کے آثار بھی سامنے نہیں آئے۔ رپورٹ میں بعض اشیا میں آگ لگنے کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

چالان میں گل پلازا انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور فائر سیفٹی انتظامات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ دکانوں اور عمارت میں دستیاب حفاظتی انتظامات سے متعلق مختلف افراد کے بیانات بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

پولیس نے چالان مزید قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کے لیے عدالت میں جمع کرایا ہے۔

سانحہ گل پلازا کیسے پیش آیا؟

گل پلازا کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک بڑا تجارتی مرکز تھا، جہاں 17 جنوری 2026 کی رات خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے تیزی سے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تقریباً دو دن تک فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ عمارت میں 1,200 سے زائد دکانیں تھیں، جبکہ واقعے میں 70 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

ریسکیو کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لاشیں ملبے سے برآمد ہوئیں۔ ایک مرحلے پر ایک ہی دکان سے 30 لاشیں ملنے کی اطلاع سامنے آئی، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھی۔

فائر سیفٹی انتظامات پر پہلے ہی سوالات

سانحے کے بعد سامنے آنے والی تحقیقات میں گل پلازا کے فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عمارت میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھے، جبکہ متعدد اخراجی راستوں میں رکاوٹیں موجود تھیں۔

دوسری جانب سول ڈیفنس کے ایک افسر نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ 2024 اور 2025 میں گل پلازا کا فائر آڈٹ اور انسپکشن کیا گیا تھا اور فائر سیفٹی اقدامات ناکافی پائے گئے تھے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کو اصلاحی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

چالان کا معاملہ پہلے بھی مؤخر ہوا

گل پلازا کیس میں پولیس چالان اس سے پہلے بھی تاخیر کا شکار رہا تھا۔ اگست 2026 میں عدالت نے چالان جمع کرانے کے لیے 5 ستمبر کی مہلت دی تھی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے لیکن سینئر افسران کی منظوری کے بعد چالان جمع کرایا جائے گا۔

اس سے قبل جون 2026 میں پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے چالان پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مزید شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور بعض اضافی گواہان کے بیانات شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

گل پلازا کیس میں ذمہ داری کا تعین

موجودہ پولیس چالان میں مارکیٹ ایسوسی ایشن کو مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری اداروں کے کردار کے بارے میں پولیس اور جوڈیشل کمیشن کے سامنے آنے والی معلومات میں نمایاں فرق موجود ہے۔

پولیس چالان کے مطابق کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کے خلاف غفلت نہیں پائی گئی، جبکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے مجموعی نظام، فائر سیفٹی خامیوں اور مختلف اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اب چالان عدالت میں جمع ہونے کے بعد مقدمے میں مزید قانونی کارروائی ہوگی اور عدالت شواہد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی نتائج کی بنیاد پر ذمہ داری کے تعین کا جائزہ لے گی۔


Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!