اردو رپورٹ ڈیسک
امریکا میں مصنوعی ذہانت نے جنگی ہوابازی کے میدان میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایف 16 لڑاکا طیارہ کامیابی سے اڑایا ہے۔
امریکی دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) کے مطابق ’وینم آٹونومی کٹ‘ نامی مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر نظام نے پہلی بار ایف 16 جنگی طیارے کی پرواز کامیابی سے مکمل کی۔
یہ آزمائشی پرواز فلوریڈا کے ایگلن ایئر فورس بیس پر کی گئی۔ پرواز کے دوران ایک انسانی پائلٹ بھی طیارے میں موجود تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق پرواز کے عمل کو مصنوعی ذہانت کے نظام نے انجام دیا۔
جنگی طیاروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
یہ پیش رفت جنگی ہوابازی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ ڈارپا کے مطابق مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی پائلٹ انسانی پائلٹوں کے ساتھ جنگی طیارے اڑا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت مستقبل میں بیرون ملک فضائی کارروائیوں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی پائلٹ استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد ایسی کارروائیوں کے دوران انسانی پائلٹوں کی جان کو خطرے سے بچانا ہے۔
عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا کردار
ایف 16 کی آزمائشی پرواز اس بات کی مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت عسکری کارروائیوں میں مزید ذمہ داریاں سنبھال رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں جنگی ہوابازی کے ایسے کام، جو روایتی طور پر انسانی پائلٹ انجام دیتے رہے ہیں، ان میں مصنوعی ذہانت کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔


