اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • سائنس دانوں کی حیران کن دریافت، مرتے ستارے کی باقیات سے بننے والا سیارہ سامنے آگیا
- انوکھی دنیا

سائنس دانوں کی حیران کن دریافت، مرتے ستارے کی باقیات سے بننے والا سیارہ سامنے آگیا

ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسے سیارے کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر مرتے ہوئے ستارے کے چھوڑے گئے مادے سے بنا ہے۔ یہ وائٹ ڈوارف کے گرد گردش کرنے والا اپنی نوعیت کا پہلا سیارہ ہو سکتا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسے سیارے کی دریافت کی ہے جو بظاہر ایک دم توڑتے ہوئے ستارے کے پیچھے چھوڑے گئے مادے سے تشکیل پایا ہے۔ یہ دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ ستارے کی زندگی کے اختتام کے بعد بھی سیارے کس طرح وجود میں آسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف واروک کے پی ایچ ڈی طالب علم جیمی ولیمز کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ’دوسری نسل کے سیارے‘ ان مادوں سے تشکیل پا سکتے ہیں جو ستارے کی موت کے دوران خارج ہوتے ہیں۔

وائٹ ڈوارف کے گرد پہلی ممکنہ دریافت

سائنس دانوں کے مطابق یہ وائٹ ڈوارف کے گرد گردش کرنے والا پہلا معلوم ’دوسری نسل کا سیارہ‘ ہو سکتا ہے۔ وائٹ ڈوارف کسی مردہ ستارے کی باقیات کو کہا جاتا ہے۔

جیمی ولیمز کے مطابق ایسے سیارے انتہائی نایاب ہیں اور وائٹ ڈوارف کے گرد ان کی موجودگی غیر متوقع تھی۔ انہوں نے اس دریافت کو ایسے سیارے کی پیدائش سے تشبیہ دی جو اس ستارے کی راکھ سے وجود میں آیا ہو جس کے گرد وہ کبھی گردش کرتا تھا۔

پلسرز کے گرد پہلے بھی شواہد مل چکے

ماہرینِ فلکیات اس سے قبل پلسرز کے گرد ممکنہ ’دوبارہ جنم لینے والے‘ یا دوسری نسل کے سیاروں کے شواہد دیکھ چکے ہیں۔ پلسرز انتہائی طاقتور مردہ ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں۔

تاہم، وائٹ ڈوارف کے گرد ممکنہ دوسری نسل کے سیارے کی دریافت اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگی۔

کائنات میں ایسے سیاروں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر مزید مشاہدات سے اس دریافت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو کائنات میں دوسری نسل کے سیاروں کی تعداد پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

یہ دریافت سیاروں کی تشکیل اور ستاروں کی زندگی کے آخری مراحل میں پیدا ہونے والے مادے کو سمجھنے کے لیے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کرسکتی ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!