اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا حکومت مخالف لانگ مارچ ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ کا قافلہ ہفتے کو چارسدہ سے مردان کے لیے روانہ ہوگا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق لانگ مارچ جمعے کی رات پشاور سے گزرنے کے بعد چارسدہ پہنچا تھا، جہاں شرکا نے رزڑ گراؤنڈ میں قیام کیا۔ مارچ کے ساتویں روز کا آغاز اسی مقام سے ہوا۔
چارسدہ سے مردان تک مارچ کا سفر
طے شدہ پروگرام کے مطابق مارچ کا قافلہ تنگی، چارسدہ اور سرڈھیری سمیت مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا مردان پہنچے گا۔ شرکا آج رات مردان میں قیام کریں گے، جس کے بعد 11 اکتوبر کو صوابی کے لیے روانہ ہوں گے۔
اب تک لانگ مارچ کے شرکا لکی مروت، کرک، کوہاٹ، پشاور، خیبر اور چارسدہ میں قیام کر چکے ہیں۔ سفر کے دورانیے اور انتظامی وجوہات کی بنا پر مارچ کے شیڈول میں دو مرتبہ تبدیلی بھی کی گئی ہے۔
سہیل آفریدی کا کارکنوں سے خطاب
بخشی پل کے مقام پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور کے شہریوں اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ طویل سفر کے باوجود عوام کے جوش و جذبے اور شرکت میں کمی نہیں آئی، جس سے کارکنوں کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چارسدہ میں مارچ کے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے، جبکہ صوابی پہنچنے پر حتمی منصوبہ سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ مراحل کے لیے تیار رہیں اور نظم و ضبط برقرار رکھیں۔
لانگ مارچ کے مطالبات کیا ہیں؟
مارچ کے منتظمین کے مطابق احتجاج کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت حاصل کرنا، انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا اور ان کے خلاف مقدمات کی اعلیٰ عدالتوں میں سماعت شروع کرانا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب مارچ کے راستے میں آنے والے اضلاع کی انتظامیہ سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ قافلہ مردان اور اس کے بعد صوابی کی جانب بڑھنے کی تیاری کر رہا ہے۔


