اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • وفاقی کابینہ کی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری
- دنیا

وفاقی کابینہ کی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور خراب امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس منگل کو طلب کر لیے گئے ہیں۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ اتوار کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں آئینی و انتظامی امور کی بحالی اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم رہنماؤں کی شرکت

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، امیر مقام، رانا تنویر، مصطفیٰ کمال، اعظم نذیر تارڑ، چوہدری سالک حسین اور عطا تارڑ سمیت دیگر اہم سیاسی و انتظامی شخصیات نے شرکت کی۔

کابینہ اراکین نے دہشت گردی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے کردار پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آخری کوشش کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے حتمی فیصلے سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ذریعے معاملے کے حل کے لیے آخری کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ بھی کیا۔

آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مجوزہ انتظام کے تحت گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

کابینہ نے سابق قبائلی علاقوں اور ان سے متصل اضلاع میں بھی آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

12 اضلاع کے لیے خصوصی حکمت عملی

حکومت نے دہشت گردی اور بدامنی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع میں امن و امان کی بحالی کے لیے الگ اور خصوصی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان اضلاع میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت کے درمیان ہفتے کو ہونے والی ملاقات میں ان اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق تجاویز پر اتفاق کیا گیا تھا۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس منگل کو طلب

مجوزہ آئینی اقدامات کی توثیق اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس منگل کو طلب کر لیے گئے ہیں۔

اجلاسوں میں خیبر پختونخوا کی مجموعی صورت حال اور وفاقی حکومت کے طے کردہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

سیکیورٹی رپورٹس میں دہشت گردی کے واقعات کا انکشاف

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور خفیہ اداروں کی دو اہم سیکیورٹی رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جن میں صوبے کی امن و امان اور انتظامی صورت حال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر، ان کے مقامی سہولت کاروں، صوبائی حکومت کی کارکردگی میں خامیوں اور صوبے میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر ناکافی توجہ کو سیکیورٹی خطرات میں اضافے کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

دہشت گرد حملوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نشانہ

سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2026 میں ہونے والے مجموعی دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا براہ راست نشانہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بنے۔

رپورٹس میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ڈرون حملوں اور بارودی دھماکوں میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق 2024 میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر ڈرون حملوں کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، تاہم 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں اس اضافے کو تقریباً 107 فیصد قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح بارودی سرنگوں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کے حملوں کی تعداد 2025 میں 181 ریکارڈ کی گئی، جبکہ ستمبر 2026 تک ایسے 159 واقعات پیش آچکے تھے۔

پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی

خفیہ اداروں کی رپورٹس میں خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پورے صوبے کے لیے محفوظ شہر منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔

پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو جدید ہتھیاروں، نگرانی کے آلات، رات میں دیکھنے والے آلات اور حرارتی تصویربرداری کے آلات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

جنوبی اضلاع میں بکتر بند گاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث پولیس کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

ضم شدہ اضلاع میں پولیس کو مشکلات کا سامنا

سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو تربیت یافتہ اہلکاروں کی کمی اور الگ بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

ان مشکلات کے باعث ان علاقوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے معمول کی پولیس کے وسائل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

وفاقی حکومت کے مجوزہ اقدامات کا مقصد صوبے میں امن و امان اور انتظامی مسائل سے نمٹنا ہے۔ ان اقدامات پر آئندہ پیش رفت پارلیمانی عمل کے ذریعے متوقع ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!