اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • اقرارالحسن کے خلاف الزامات سامنے آگئے ،ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
- پاکستان

اقرارالحسن کے خلاف الزامات سامنے آگئے ،ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی کی عدالت نے اینکر پرسن اقرار الحسن کو قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کی تحویل میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔ ان پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزامات ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016 (پیکا) کی پانچ دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج کر لیا گیا۔ مقدمہ 10 اکتوبر کو درج کیا گیا تھا۔

قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق، اقرار الحسن پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کا الزام ہے، جس کا مقصد عوام کو ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف اکسانا تھا۔

مقدمہ پیکا 2016 کی دفعہ 9 (جرم کی تشہیر)، دفعہ 10 (سائبر دہشت گردی)، دفعہ 20 (کسی شخص کی عزت و وقار کے خلاف جرائم)، دفعہ 24 (سائبر تعاقب) اور دفعہ 26-اے (جھوٹی اور جعلی معلومات پھیلانے کی سزا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ادارہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والی آمدن، مالی فوائد اور متعلقہ مالی لین دین کی بھی جانچ کرے گا۔

جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے منگل کے روز اینکر پرسن اقرار الحسن کو قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔

اقرار الحسن کو مبینہ طور پر پیر کی علی الصبح لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ تحقیقاتی ادارے نے انہیں ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف عوام کو اکسانے کے مقصد سے مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

تحقیقاتی افسر نے اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا اور تفتیش مکمل کرنے کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے چار روزہ ریمانڈ منظور کیا۔

ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی اور اکاؤنٹس کی تحقیقات

تحقیقاتی افسر کے مطابق، اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو موجودہ مقدمے میں گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے زیر استعمال موبائل فونز، لیپ ٹاپ، دیگر ڈیجیٹل آلات، سم کارڈز اور مواد محفوظ کرنے والے آلات برآمد کرنا ضروری ہے۔ ان آلات کو مبینہ طور پر متنازع مواد تیار کرنے، اس میں ترمیم کرنے اور سوشل میڈیا پر شائع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

تحقیقاتی افسر نے مزید کہا کہ ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر زیر استعمال اکاؤنٹس کے انتظام اور ان پر اقرار الحسن کے اختیار کی تصدیق بھی کرنا مقصود ہے۔ اس مقصد کے لیے اکاؤنٹس سے منسلک ای میل پتے، موبائل نمبرز اور اکاؤنٹس کی بحالی سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں گی۔

دیگر ممکنہ ملوث افراد اور مالی فوائد کی جانچ

تحقیقاتی افسر کے مطابق، تفتیش کے دوران ان افراد کی شناخت بھی کی جائے گی جنہوں نے مبینہ طور پر متنازع مواد تیار کرنے، اس میں ترمیم کرنے یا اسے پھیلانے میں معاونت کی۔

ان میں مواد تیار کرنے والے افراد، مدیران، سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد اور دیگر معاونین شامل ہو سکتے ہیں۔ ملوث ہونے کے شواہد ملنے پر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقاتی ادارہ اقرار الحسن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والی آمدن، مالی فوائد اور متنازع مواد کی اشاعت سے متعلق ممکنہ مالی لین دین کی بھی جانچ کرے گا۔

عدالت کی قانونی ٹیم سے ملاقات کی اجازت

عدالت نے اقرار الحسن کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے تحقیقاتی افسر کو ہدایت کی کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں 17 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے پوچھے جانے پر اقرار الحسن نے این سی سی آئی اے کے اہلکاروں کے ہاتھوں کسی بدسلوکی کی شکایت نہیں کی۔

دورانِ حراست اقرار الحسن کی قانونی ٹیم سے ملاقات کی اجازت کے لیے دائر درخواست منظور کر لی گئی، تاکہ وکالت نامے پر ان کے دستخط حاصل کیے جا سکیں۔

تاہم، اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت کے لیے عدالت نے ہدایت کی کہ متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کی جائے، جو اس پر مناسب حکم جاری کرے گا۔

این سی سی آئی اے کی انکوائری اور مقدمے کی تفصیلات

تحقیقاتی افسر کے مطابق، این سی سی آئی اے کراچی نے 10 اکتوبر کو ایک معتبر ذریعے سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر انکوائری شروع کی تھی۔

اطلاع میں الزام لگایا گیا تھا کہ اقرار الحسن اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد پھیلا رہے تھے، جس کا مقصد عوام کو ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف اکسانا تھا۔

تحقیقاتی ادارے کے مطابق، ان پوسٹس میں ریاستی اداروں اور حکام کے بارے میں مبینہ طور پر غلط معلومات پیش کی گئیں، قانونی اقدامات کو متنازع انداز میں دکھایا گیا اور سزا یافتہ افراد کی مبینہ طور پر غلط انداز میں ستائش کی گئی۔

تحقیقاتی افسر نے دعویٰ کیا کہ اس مواد سے وفاق کی سالمیت، اتحاد اور امن عامہ کو خطرہ لاحق ہوا۔

پیکا 2016 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج

اقرار الحسن کے خلاف 10 اکتوبر کو مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا۔ مقدمہ انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016 (پیکا) کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

ان دفعات کا تعلق جرم کی مبینہ تشہیر، سائبر دہشت گردی، کسی شخص کی عزت و وقار کے خلاف جرائم، سائبر تعاقب اور جھوٹی و جعلی معلومات پھیلانے کی سزا سے ہے۔

واضح رہے کہ اقرار الحسن کے خلاف یہ الزامات تاحال الزامات ہیں اور ان کی تحقیقات جاری ہیں۔ عدالت کی جانب سے ریمانڈ منظور کیے جانے کا مطلب الزامات ثابت ہونا نہیں ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!