اردوEnglish
ہفتہ, 24 اکتوبر 2026
  • Home  
  • میر رضا علی قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی
- وائرل نیوز

میر رضا علی قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

میر رضا علی قتل کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی گئی۔ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر پولیس افسران کے کردار کا جائزہ لینے اور ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز بھی سامنے آگئی۔

اردو رپورٹ ڈیسک

سندھ حکومت نے میر رضا علی قتل کیس میں عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کریں گے۔

سرکاری مراسلے کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز اور قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔

سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کرکے گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔

میر رضا علی قتل کیس کا مقدمہ

میر رضا علی کے قتل کا مقدمہ کراچی کے تھانہ فیروزآباد میں درج ہے۔ مقدمے کی ایف آئی آر نمبر 795/2026 میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 365، 302 اور 201 شامل کی گئی ہیں، جن کا تعلق اغوا، قتل اور جرم کے شواہد غائب کرنے یا مجرم کو بچانے کے لیے غلط معلومات فراہم کرنے سے ہے۔

پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا معاملہ

دوسری جانب عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو خط ارسال کردیا ہے۔

خط کے ساتھ عدالتی کمیشن کے مشاہدات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات بھی بھجوا دی گئی ہیں تاکہ نامزد افسران اور اہلکاروں کے کردار کے حوالے سے مزید کارروائی کی جاسکے۔

سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کو نامزد کیا جائے۔ مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پولیس افسران کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم

عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایڈیشنل آئی جی انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) ذوالفقار علی لاڑک کی سربراہی میں ایک رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔

کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نامزد افسران اور اہلکاروں کی صلاحیتوں، کارکردگی اور مجموعی پولیس ریکارڈ کا جائزہ لے۔ اس کے علاوہ جائے وقوع کو جلائے جانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات بھی کی جائیں گی۔

کمیٹی اپنی تحقیقات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے گی۔

ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز

مزید برآں، عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے اور انہیں دو سالہ تربیت دلانے کی تجویز دی ہے۔

اس سلسلے میں محکمہ داخلہ سندھ نے سیکریٹری صحت کو خط ارسال کردیا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!